Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
327 - 695
	اور حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے : میری عزت و جلال اور مخلوق پر میری بلندی کی قسم! نہ تومیں اپنے بندے پردوخوف جمع کروں گااورنہ اس کے لیے دوامن جمع کروں گا،جودنیامیں مجھ سے ڈرتا رہا اسے میں قیامت کے دن امن دوں گا اور جو دنیا میں مجھ سے بے خوف رہا اسے میں قیامت کے دن خوف میں مبتلا کر دوں گا۔(1)
	دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے پرہیز گار بندوں میں شامل فرمائے ، دنیا میں ہمیں اپنا خوف نصیب کرے اور آخرت میں خوف سے محفوظ فرمائے ، اٰمین۔
وَہٰذَا ذِکْرٌ مُّبٰرَکٌ اَنۡزَلْنٰہُ ؕ اَفَاَنۡتُمْ لَہٗ مُنۡکِرُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور یہ ہے برکت والا ذکر کہ ہم نے اتارا تو کیا تم اس کے منکر ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور یہ برکت والا ذکر ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس کے منکر ہو؟
{وَہٰذَا ذِکْرٌ مُّبٰرَکٌ:اور یہ برکت والا ذکر ہے۔} یعنی جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر تورات نازل فرمائی اسی طرح ہم نے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پربرکت والا ذکر قرآنِ پاک نازل فرمایا ہے،اس کے مَنافع کثیر اور ا س میں بہت وسیع علوم ہیں اور ایمان لانے والوں کے لئے اس میں بڑی برکتیں ہیں، اور جب یہ ظاہر ہو گیا کہ جس طرح ہم نے تورات نازل فرمائی اسی طرح قرآن مجید بھی نازل فرمایا تواے اہلِ مکہ! کیا یہ سب جاننے کے باوجود تم قرآنِ مجید کے ہماری طرف سے نازل ہونے کا انکار کرتے ہو؟(2)
وَلَقَدْ اٰتَیۡنَاۤ اِبْرٰہِیۡمَ رُشْدَہٗ مِنۡ قَبْلُ وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ۵۱﴾ اِذْ قَالَ لِاَبِیۡہِ وَقَوْمِہٖ مَا ہٰذِہِ التَّمَاثِیۡلُ الَّتِیۡۤ اَنۡتُمْ لَہَا عٰکِفُوۡنَ ﴿۵۲﴾
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ابن عساکر، محمد بن علی بن الحسن بن ابی المضائ۔۔۔ الخ، ۵۴/۲۶۷۔
2…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۵۰، ۳/۲۷۹، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۵۰، ۵/۴۸۹، ملتقطاً۔