Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
324 - 695
کا معاملہ کیا ہوگا یا اس کے ساتھ کسی مجلس میں بیٹھا ہوگا تو غیبت ، خیانت یا حقارت کی نظر سے دیکھنے کے اعتبار سے اس کا تجھ پر حق بنتا ہوگا اور تو ان کے معاملے میں کمزور ہوگا اور اپنی گردن اپنے آقا اور مولیٰ کی طرف اس نیت سے اٹھائے گا کہ شاید وہ تجھے ان کے ہاتھ سے چھڑائے کہ اتنے میں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ندا تیرے کانوں میں پڑے گی :
’’اَلْیَوْمَ تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا کَسَبَتْ ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: آج ہر جان کو اس کے کمائے ہوئے اعمالکا بدلہ دیا جائے گا ۔آج کسی پر زیادتی نہیں ہوگی۔
	اس وقت ہیبت کے مارے تیرا دل نکل جائے گا اور تجھے اپنی ہلاکت کا یقین ہوجائے گا اور اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبانی جو تجھے ڈرایا تھا وہ تجھے یاد آجائے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’وَلَا تَحْسَبَنَّ اللہَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ ۬ؕ اِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیۡہِ الۡاَبْصَارُ﴿ۙ۴۲﴾ مُہۡطِعِیۡنَ مُقْنِعِیۡ رُءُوۡسِہِمْ لَایَرْتَدُّ اِلَیۡہِمْ طَرْفُہُمْ ۚ وَاَفۡـِٕدَتُہُمْ ہَوَآءٌ ﴿ؕ۴۳﴾ وَ اَنۡذِرِ النَّاسَ ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (اے سننے والے!)ہرگز اللّٰہ کو ان کاموں سے بے خبر نہ سمجھنا جو ظالم کررہے ہیں۔ اللّٰہ انہیں صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیںگی۔لوگ بے تحاشا اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے دوڑتے جا رہے ہوں گے، ان کی پلک بھی ان کی طرف نہیں لوٹ رہی ہوگی اور ان کے دل خالی ہوں گے۔ اور لوگوں کو ڈراؤ۔
	آج جب تو لوگوں کی عزتوں کے پیچھے پڑتا ہے اور ان کے مال کھاتا ہے تو کس قدر خوش ہوتا ہے، لیکن اس دن تجھے کس قدر حسرت ہوگی جب تو عدل کے میدان میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوگا اوراس وقت تو مُفلس ،فقیر، عاجز اور ذلیل ہوگا ،نہ کسی کا حق ادا کرسکے گا اور نہ ہی کوئی عذر پیش کرسکے گا۔پھر تیری وہ نیکیاں جن کے لیے تو نے زندگی بھر مشقت برداشت کی تجھ سے لے کر ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن کے حقوق تیرے ذمہ ہوں گے، اور یہ ان کے حقوق کا عِوَض ہوگا۔ تو دیکھو اس دن تم کس قدر مصیبت میں مبتلا ہوگے کیوں کہ پہلے تو تمہاری نیکیاں ریا کاری اور شیطانی مکر وفریب سے محفوظ نہیں ہوں گی اور اگر طویل مدت کے بعدکوئی ایک نیکی بچ بھی جائے تو اس پر حق دار دوڑیں گے اور اسے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مومن:۱۷۔
2…ابراہیم:۴۲-۴۴۔