تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْـًٔا‘‘ رکھیں گے تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔‘‘
اس شخص نے عرض کی :میں اپنے اوران غلاموں کے لیے ان کی جدائی سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا ،میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ سارے آزاد ہیں۔(1)
امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:میزان کے خطرے سے وہی بچ سکتا ہے جس نے دنیا میں اپنا محاسبہ کیا ہو اور اس میں شرعی میزان کے ساتھ اپنے اعمال ، اقوال اور خطرات و خیالات کو تولا ہو، جیسا کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’اپنے نفسوں کا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور (قیامت کے دن) وزن کرنے سے پہلے خود وزن کرلو۔‘‘ اپنے نفس کے حساب (یا محاسبہ) سے مراد یہ ہے کہ بندہ مرنے سے پہلے روزانہ سچی توبہ کرے اور اللّٰہ تعالیٰ کے فرائض میں جو کوتاہی کی ہے اس کا تَدارُک کرے اور لوگوں کے حقوق ایک ایک کوڑی کے حساب سے واپس کرے اور اپنی زبان، ہاتھ یا دل کی بدگمانی کے ذریعے کسی کی بے عزتی کی ہو تو اس کی معافی مانگے اور ان کے دلوں کو خوش کرے حتّٰی کہ جب اسے موت آئے تو اس کے ذمہ نہ کسی کا کوئی حق ہو اور نہ ہی کوئی فرض، تو یہ شخص کسی حساب کے بغیر جنت میں جائے گا۔ اور اگر وہ لوگوں کے حقوق ادا کرنے سے پہلے مرجائے تو (قیامت کے دن) حق دار اس کا گھیراؤ کریں گے، کوئی اسے ہاتھ سے پکڑے گا ،کوئی اس کی پیشانی کے بال پکڑے گا، کسی کا ہاتھ اس کی گردن پر ہوگا، کوئی کہے گا :تم نے مجھ پر ظلم کیا، کوئی کہے گا: تو نے مجھے گالی دی ، کوئی کہے گا: تم نے مجھ سے مذاق کیا ، کوئی کہے گا :تم نے میری غیبت کرتے ہوئے ایسی بات کہی جو مجھے بری لگتی تھی، کوئی کہے گا: تم میرے پڑوسی تھے لیکن تم نے مجھے اِیذا دی، کوئی کہے گا :تم نے مجھ سے معاملہ کرتے ہوئے دھوکہ کیا، کوئی کہے گا :تو نے مجھ سے سودا کیا تو مجھ سے دھوکہ کیا اور مجھ سے اپنے مال کے عیب کو چھپایا ،کوئی کہے گا: تو نے اپنے سامان کی قیمت بتاتے ہوئے جھوٹ بولا، کوئی کہے گا: تو نے مجھے محتاج دیکھا اور تو مال دار تھا لیکن تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا، کوئی کہے گا: تو نے دیکھا کہ میں مظلوم ہوں اور تو اس ظلم کو دور کرنے پر قادر بھی تھا، لیکن تو نے ظالم سے مُصالحت کی اور میرا خیال نہ کیا۔
تو جب اس وقت تیرا یہ حال ہوگا اور حق داروں نے تیرے بدن میں ناخن گاڑ رکھے ہوں گے اور تیرے گریبان پر مضبوط ہاتھ ڈالاہوگا اور تو ان کی کثرت کے باعث حیران وپریشان ہوگا حتّٰی کہ تو نے اپنی زندگی میں جس سے ایک درہم
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الانبیاء علیہم السلام، ۵/۱۱۱، الحدیث: ۳۱۷۶۔