Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
322 - 695
{وَنَضَعُ الْمَوَازِیۡنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ:اور ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھیں گے جن کے ذریعے اعمال کا وزن کیاجائے گا تاکہ ان کی جزا دی جائے تو کسی جان پراس کے حقوق کے معاملے میں کچھ ظلم نہ ہوگااور اگر اعمال میں سے کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو گی تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم ہر چیز کا حساب کرنے کیلئے کافی ہیں۔(1)
	یاد رہے کہ میزان کا معنی اوراعمال کے وزن کی صورتوں نیز میزان سے متعلق مزید کلام سورہ اَعراف کی آیت نمبر 8 کی تفسیر کے تحت گزر چکا ہے ۔
میزان کے خطرے سے نجات پانے والا شخص:
	قیامت کے ہولناک مراحل میں سے ایک انتہائی ہولناک مرحلہ وہ ہے جب لوگوں کے اعمال کا وزن کیا جائے گااور یہاں کسی کے ثواب میں کمی کر کے یا کسی کے گناہوں میں اضافہ کر کے اس پر ظلم نہیں کیا جائے گا بلکہ ہر ایک کے ساتھ عدل و انصاف ہو گا اور ہر ایک کو ا س کا حق دیاجائے گا لہٰذا اس مرحلے میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے دنیا میں تیاری بہت ضروری ہے۔ ترمذی شریف میں حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اس نے آپ کے سامنے بیٹھ کر عرض کی : یا رسولَ اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میرے کچھ غلام ہیں جو مجھ سے جھوٹ بولتے ، میرے ساتھ خیانت کرتے اور میری نافرمانی کرتے ہیں ، میں انہیں گالیاں دیتا اور مارتا ہوں، تو ان سے متعلق میرا کیا حال ہو گا؟ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’( جب قیامت کا دن ہو گا تو) ان لوگوں نے جوتمہاری خیانت کی ، تمہاری نافرمانی کی اور تم سے جھوٹ بولا اور جوتم نے انہیں سزا دی، ان سب کا حساب لگایا جائے گا، پھر اگر تیری سزا ان کے جرموں کے برابر ہو گی تو حساب بے باق ہے، نہ تیرا ان کے ذمہ نہ ان کا تیرے ذمہ کچھ ہو گا، اور اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے قصوروں سے کم ہوگا تو تجھے ان پر بزرگی حاصل ہوگی اور اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے قصور سے زیادہ ہوا تو زیادتی کا تجھ سے بدلہ لیا جائے گا۔ وہ شخص ایک طرف ہوگیا اور چیخیں مار کررونے لگا، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے ارشاد فرمایا ’’ کیا تم نے اللّٰہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑھا
’’وَنَضَعُ الْمَوَازِیۡنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ فَلَا		ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۴۷، ۵/۴۸۵-۴۸۶، جلالین، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۴۷، ص۲۷۳، ملتقطاً۔