Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
321 - 695
کہ  اگر انہیں اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کا معمولی حصہ پہنچ جائے تو اس وقت یہ ضرور پکاریں گے کہ ہائے ہم برباد ہو گئے ،ہم ہلاک ہو گئے ،بے شک ہم نبی کی بات پر توجہ نہ دے کر اور ان پر ایمان نہ لا کر اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔(1)
 غفلت و بدبختی کا شکار لوگوں کا حال:
	علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ غفلت و بدبختی کا شکار لوگ دنیا میں انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تنبیہ اور اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکے وعظ سے نصیحت حاصل نہیں کرتے یہاں تک کہ موت کے بعد انہیں اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کے آثار میں سے کوئی اثر پہنچے، کیونکہ ابھی لوگ سو رہے ہیں اور جب انہیں موت آئے گی تو یہ بیدار ہو جائیں گے ،پھر یہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے اور اپنی جانوں پر ظلم کرنے کی وجہ سے ہائے بربادی، ہائے ہلاکت پکاریں گے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب اور ا س کی ناراضی کے اسباب سے بچے اور رحمت و نجات کے دروازے کی طرف آئے ،اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت اور پرہیز گاری کا راستہ اختیار کرے اور نفسانی خواہشات کو پورا کرنے سے بچے۔(2)
وَنَضَعُ الْمَوَازِیۡنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْـًٔا ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیۡنَابِہَا ؕ وَکَفٰی بِنَا حٰسِبِیۡنَ ﴿۴۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھیں گے تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگااور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو گی تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب کرنے کیلئے کافی ہیں۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ابوسعود الانبیاء، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳/۴۲۰، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۷۱۷-۷۱۸، ملتقطاً۔
2…روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۴۶، ۵/۴۸۵۔