ترجمۂکنزالایمان:تم فرماؤ کہ میں تم کو صرف وحی سے ڈراتا ہوں اور بہرے پکارنا نہیں سنتے جب ڈرائے جائیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: میں تم کو صرف وحی کے ذریعے ڈراتا ہوںاور بہرے پکار کو نہیں سنتے جب انہیں ڈرایا جائے۔
{قُلْ:تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں سے فرما دیں کہ میرا کام یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں میری طرف جو وحی کی جاتی ہے اِس کے ذریعے میں تمہیں اُس عذاب سے ڈراؤں جس کے آنے کی تم جلدی مچا رہے ہو، عذاب کولانا میرا کام نہیں۔ آیت کے آخر میں کافروں کے متعلق فرمایا کہ جیسے بہروں کو کسی خطرے میں آواز دی جائے تو انہیں یہ آواز فائدہ نہیں دیتی کیونکہ ان میں کسی کی آواز سے نفع اٹھانے کی صلاحیت نہیں ہے اسی طرح کفار کی حالت ہے کہ انہیں عذاب کی وَعِیدیں فائدہ نہیں دیتیں کیونکہ انہوں نے ہدایت کی بات سننے سے خود کو بہرا کیا ہوا ہے۔
آیت’’قُلْ اِنَّمَاۤ اُنۡذِرُکُمۡ بِالْوَحْیِ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے۔
(1)… پیغمبر پر احکام سنا دینا لازم ہے، دل میں اتارنا لازم نہیں کہ یہ خدا کا کام ہے۔
(2)… جو وعظ سے نفع حاصل نہ کرے، وہ بہرا ہے یعنی دل کا بہرا ہے، اگرچہ بظاہر اس میں سننے کی قوت موجود ہو۔
وَلَئِنۡ مَّسَّتْہُمْ نَفْحَۃٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّکَ لَیَقُوۡلُنَّ یٰوَیۡلَنَاۤ اِنَّاکُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۴۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر انہیں تمہارے رب کے عذاب کی ہوا چھو جائے تو ضرور کہیں گے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر انہیں تمہارے رب کے عذاب کی ہوا چھو جائے تو ضرور کہیں گے: ہائے ہماری خرابی! بیشک ہم ظالم تھے۔
{وَلَئِنۡ مَّسَّتْہُمْ:اور اگر انہیں چھو جائے۔} اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا کہ عذاب آنے کی خبر سن کرکافروں پر کوئی اثر نہ ہوا اور یہاںفرمایا کہ جب عذاب آ جائے گاتو پھر انہیں پتہ چلے گا کہ انہیں کتنی جلدی اثر ہوتا ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا