Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
319 - 695
ہیں اور یہی چیزیں جب نیکیوں میں صَرف ہوں تو اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت بن جاتی ہیں، جیسے شیطان کی لمبی عمر اس کے لئے زیادہ عذاب کا باعث ہے اور حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دراز عمر شریف عین رحمت ِپروردگار ہے۔
پہلے کافروں اور اب مسلمانوں پر زمین کے کناروں کی کمی:
	ابتداءِ اسلام میں مسلمان چونکہ قرآنِ مجید کے احکامات اور ا س کی تعلیمات پر کامل طریقے سے عمل پیرا تھے اور انہوں نے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت وپیروی کو مضبوطی سے تھاما ہو اتھا جس کے نتیجے میں اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ انعام فرمایا کہ کفار کی آبادیوں ،بستیوں ،شہروں اور ملکوں پران کاغلبہ ختم کرکے مسلمانوں کو قبضہ عطا کر دیا اور رفتہ رفتہ روم اور ایران کی طاقتور ترین سلطنتیں مسلمانوں کے تَسَلُّط میں آ گئیں، عراق اور مصر کی سر زمین پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا، افریقی ممالک اور اندلس کے شہر مسلمانوں کے اقتدار میں آ گئے اور دنیا کے ایک تہائی حصے پر دینِ اسلام کا پرچم لہرانے لگا ۔ 
	صدیوں تک مسلمانوں کا یہی حال رہا اور اس عرصے میں مسلمان علمی، فنی، حربی اور تعمیری میدان میں ترقی در ترقی کرتے رہے اور یہ دور مسلمانوں کی خوشحالی اور ترقی کا زریں دور رہا۔ پھر جب مسلمان قرآنِ مجید کے احکامات اور اس کی تعلیمات پر عمل سے دور ہونے لگے اور حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت و فرمانبرداری سے رو گردانی شروع کر دی، عیش و عشرت کی بزم گرم کرنے اور رَقْص و سُرور کی محفل سجانے لگ گئے، ایک دوسرے سے اقتدار چھیننے میں مصروف ہوئے اور اقتدار کے حصول کی خاطر اسلام کے دشمنوں کو اپنا مددگار بنانے اور ان سے مدد حاصل کرنے لگ گئے تو ا س کا انجام یہ ہوا کہ ان کی ملی وحدت پارہ پارہ ہونا شروع ہو گئی اور آہستہ آہستہ مسلمانوں کے مفتوحہ علاقے کفار کے قبضے میں آنے لگ گئے ،اسلامی سلطنت کی حدود سمٹنے لگ گئیں اور اب دنیا بھر میں مسلمانوں کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اگر آج بھی مسلمان اپنے ماضی سے سبق نہ سیکھیں گے تو کوئی بعید نہیں کہ مسلمانوں کا رہا سہا غلبہ و اقتدار بھی ان سے چھن جائے۔
قُلْ اِنَّمَاۤ اُنۡذِرُکُمۡ بِالْوَحْیِ ۫ۖ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنۡذَرُوۡنَ ﴿۴۵﴾