بَلْ مَتَّعْنَا ہٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَہُمْ حَتّٰی طَالَ عَلَیۡہِمُ الْعُمُرُ ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاۡتِی الْاَرْضَ نَنۡقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَا ؕ اَفَہُمُ الْغٰلِبُوۡنَ ﴿۴۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتاوا دیا یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوئی تو کیا نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں تو کیا یہ غالب ہوں گے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو فائدہ اٹھانے دیایہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوگئی تو کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں۔ تو کیا یہ غالب ہوں گے ؟
{بَلْ مَتَّعْنَا ہٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَہُمْ:بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادا کوفائدہ اٹھانے دیا۔} ارشاد فرمایا: بلکہ ہم نے ان کفار کو اور ان کے باپ دادا کو فائدہ اٹھانے دیا اور دنیا میں انہیں نعمت و مہلت دی یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوگئی اور وہ اس سے اور زیادہ مغرور ہوئے اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے تو کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم کفرستان کی زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں اور روز بروز مسلمانوں کو اس پر تَسَلُّط دے رہے ہیں اور ایک شہر کے بعد دوسرا شہر فتح ہوتا چلا آ رہا ہے ، حدودِ اسلام بڑھ رہی ہیں اورکفر کی سرزمین گھٹتی چلی آتی ہے اور مکہ مکرمہ کے قریبی علاقوں پر مسلمانوں کا تسلط ہوتا جارہا ہے ، کیا مشرکین جو عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں اس کو نہیں دیکھتے اور عبرت حاصل نہیں کرتے ، تو کیا یہ غالب ہوں گے جن کے قبضہ سے زمین دَمْبدم نکلتی جا رہی ہے یا رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے اَصحاب جو اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے فتح پر فتح پا رہے ہیں اور ان کے مقبوضہ علاقے رفتہ رفتہ بڑھتے چلے جارہے ہیں ۔(1)
غفلت و عذاب کا عمومی سبب:
اس سے معلوم ہوا کہ لمبی عمر، مال کی زیادتی اور زیادہ آرام عموماً غفلت اور اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کا سبب بن جاتے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳/۲۷۸، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۷۱۷، ملتقطاً۔