{بَلْ تَاۡتِیۡہِمۡ بَغْتَۃً:بلکہ وہ ان پر اچانک آپڑے گی ۔} کفار کے طلب کردہ عذاب کی شدت بیان کرنے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ کفار کو اس کے آنے کا وقت معلوم نہیں بلکہ وہ قیامت ان پر اچانک آپڑے گی تو انہیں حیران کردے گی، پھر نہ وہ اسے کسی حیلے سے ردکرسکیں گے اور نہ انہیں توبہ و معذرت کی مہلت دی جائے گی۔(1)
وَلَقَدِ اسْتُہۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیۡنَ سَخِرُوۡا مِنْہُمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسْتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۴۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا تو مسخرگی کرنے والوں کا ٹھٹھا انہی کو لے بیٹھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جس (عذاب ) کا مذاق اڑاتے تھے اسی نے ان کو گھیر لیا۔
{وَلَقَدِ اسْتُہۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبْلِکَ:اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ۔} اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو مزید تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس طرح آپ کی قوم نے آپ کا مذاق اڑایا اسی طرح ان سے پہلے کے کفار بھی اپنے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مذاق اڑایا کرتے تھے تو مذاق اڑانے والوں کا مذاق انہیں کو لے بیٹھا اور وہ اپنے مذاق اڑانے اور مسخرہ پن کرنے کے وبال و عذاب میں گرفتار ہوئے۔لہٰذا آپ رنجیدہ نہ ہوں ، آپ کے ساتھ اِستہزاء کرنے والوں کا بھی یہی انجام ہونا ہے۔(2)
قُلْ مَنۡ یَّکْلَؤُکُمۡ بِالَّیۡلِ وَالنَّہَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ ؕ بَلْ ہُمْ عَنۡ ذِکْرِ رَبِّہِمۡ مُّعْرِضُوۡنَ ﴿۴۲﴾
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۴۰، ۸/۱۴۶۔
2…تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۴۱، ۸/۱۴۶، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴/۴۸۷، ملتقطاً۔