Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
315 - 695
کی تجہیز و تکفین کرنے میں جلدی کرنا ۔ (1)
وَیَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۸﴾ لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡاحِیۡنَ لَایَکُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡہِہِمُ النَّارَ وَلَاعَنۡ ظُہُوۡرِہِمْ وَلَاہُمْ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۳۹﴾ بَلْ تَاۡتِیۡہِمۡ بَغْتَۃً فَتَبْہَتُہُمْ فَلَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ رَدَّہَا وَلَا ہُمْ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۴۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو۔ کسی طرح جانتے کافر اس وقت کو جب نہ روک سکیں گے اپنے مونہوں سے آگ اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد ہو۔بلکہ وہ ان پر اچانک آپڑے گی تو انہیں بے حواس کردے گی پھر نہ وہ اسے پھیرسکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کہتے ہیں : اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب ہوگا ؟اگر کافر اس وقت کو جان لیتے جب وہ اپنے چہروں سے اور اپنی پیٹھوں سے آگ کو نہ روک سکیں گے اور نہ ان کی مددکی جائے گی۔ بلکہ وہ (قیامت)ان پر اچانک آپڑے گی تو انہیں حیران کردے گی پھر نہ وہ اسے رد کرسکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔
{وَیَقُوۡلُوۡنَ:اور کہتے ہیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین نے جلدی مچاتے اور مذاق اڑاتے ہوئے کہا :اے مسلمانوں کے گروہ! اگر تم سچے ہوتو عذاب یا قیامت کا یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر کافر اس وقت کو جان لیتے جب وہ اپنے چہروں سے اور اپنی پیٹھوں سے دوزخ کی آگ کو نہ روک سکیں گے اور نہ ان کی مددکی جائے گی، تو وہ کفر پر قائم نہ رہتے اور عذاب طلب کرنے میں جلد ی نہ کرتے۔(2)نیز کفار کو اپنے عذاب کا حقیقی علم ہوجاتا تو قیامت کا وقت نہ پوچھتے بلکہ اس کیلئے تیاری کرتے۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مستقل مزاجی کی اہمیت اور جلد بازی کے نقصانات سے متعلق مفید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’جلدبازی کے نقصانات‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔
2…قرطبی ، الانبیاء ، تحت الآیۃ : ۳۸-۳۹ ، ۶/۱۶۱ ، الجزء الحادی عشر ، تفسیر کبیر ، الانبیاء ، تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹، ۸/۱۴۵-۱۴۶، خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹، ۳/۲۷۷، ملتقطاً۔