Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
314 - 695
(میرے اولیاء کا میری بارگاہ میں یہ مقام ہے کہ ) جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو اس نے مجھ سے جنگ کا اعلان کر دیا اور بے شک اس نے عذاب طلب کرنے میں جلدی کر لی کیونکہ میں اپنے اولیاء کی وجہ سے شدید غضب فرماتا ہوں اور جو بد بخت میرے حبیب اور میرے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے دشمنی کرے تو اس کا انجام کیا ہو گا۔(1)
	اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبر ت ہے جو حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے بے اَدبانہ انداز اپنا کر، آپ کی سیرت اور سنتوں کا مذاق اڑا کر،آپ کے اَعمال کو ہدفِ تنقید بنا کر،آپ کے صحابۂ کرام اور آل اولاد پر انگشت ِاِعتراض اٹھا کر الغرض کسی بھی طریقے سے حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے اَذِیَّت اور تکلیف کاباعث بنتے ہیں ۔اللّٰہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے۔
جلد بازی کی مذمت اور مستقل مزاجی کی اہمیت:
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ جلد بازی ایسی بری چیز ہے کہ اس کی وجہ سے انسان اپنی ہلاکت و بربادی اور عبرتناک موت تک کا مطالبہ کر بیٹھتا ہے اور یہ جلد بازی کا ہی نتیجہ ہے کہ انسان اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھ بیٹھتا ہے اور وہ کوئی عملی قدم اٹھانے سے پہلے ا س کے اچھے اوربرے پہلوؤں پر غور نہیں کر پاتا اوریوں اکثر وہ اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں مستقل مزاج اور سکون و اطمینان سے کام کرنے والاآدمی اپنے مقصد کو پا لیتا ہے اور نقصان سے بھی بچ جاتا ہے۔حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جب تم نے بردباری سے کام لیا تو اپنے مقصد کو پالیا، یا عنقریب پا لوگے اور جب تم نے جلدبازی کی تو تم خطا کھاجاؤ گے یا ممکن ہے کہ تم سے خطا سرزد ہوجائے۔(2)
	 حضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو جلدی کرتا ہے وہ خطا میں پڑتا ہے۔ (3)
	لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ جلد بازی سے بچے اور مستقل مزاجی کو اختیار کرنے کی کوشش کرے۔ خیال رہے کہ چند چیزوں میں جلد ی اچھی ہے، جیسے گناہوں سے توبہ ، نماز کی ادائیگی، جب کُفُومل جائے تو لڑکی کی شادی اور میت
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۷، ۵/۴۸۱۔
2…السنن الصغری، کتاب آداب القاضی، باب التثبت فی الحکم، ۲/۶۱۰، الحدیث: ۴۴۹۹۔
3…نوادر الاصول، الاصل الحادی والستّون والمائتان، ۲/۱۲۶۸، الحدیث: ۱۵۵۹۔