Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
313 - 695
خُلِقَ الْاِنۡسَانُ مِنْ عَجَلٍ ؕسَاُورِیۡکُمْ اٰیٰتِیۡ فَلَا تَسْتَعْجِلُوۡنِ ﴿۳۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: آدمی جلد باز بنایا گیا اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا مجھ سے جلدی نہ کرو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: آدمی جلد باز بنایا گیا۔ اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تومجھ سے جلدی نہ کرو۔ 
{خُلِقَ الْاِنۡسَانُ مِنْ عَجَلٍ:آدمی جلد باز بنایا گیا۔} اس کا ایک معنی یہ ہے کہ جلد بازی کی زیادتی اور صبر کی کمی کی وجہ سے گویا انسان بنایا ہی جلد بازی سے گیا ہے یعنی جلد بازی انسان کا خمیر ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جلد بازی کو انسان کی فطرت اور اخلاق میں پیدا کیا گیا ہے۔ یہاں آیت میں انسان سے کون مراد ہے، اس کے بارے میں مفسرین کے تین قول ہیں: (1) اس سے انسان کی جنس مراد ہے ۔ (2) یہاں انسان سے مراد نضر بن حارث ہے ۔ (3) اس آیت میں انسان سے مراد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہیں۔(1)
{سَاُورِیۡکُمْ اٰیٰتِیۡ:اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا۔} شانِ نزول: جب نضر بن حارث نے جلد عذاب نازل کرنے کامطالبہ کیا تواس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایاگیاکہ اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا۔ ان نشانیوں سے عذاب کے وہ وعدے مراد ہیں جو مشرکین کو دئیے گئے تھے ، ان وعدوں کا وقت قریب آ گیا ہے، لہٰذا انہیں چاہئے کہ وقت سے پہلے ان کا مطالبہ نہ کریں۔چنانچہ دنیا میں بدر کے دن وہ منظر ان کی نگاہوں کے سامنے آ گیا اور آخرت میں وہ جہنم کا عذاب دیکھیں گے۔(2)
حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی گستاخی کا انجام:
	علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس مقام پر ’’تاویلات ِنجمیہ‘‘ کے حوالے سے ایک بہت پیارا نکتہ بیان کیا ہے کہ (گویا اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا) اے کافرو! تم اپنی جہالت و گمراہی کی وجہ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی مچا رہے ہو، کیونکہ تم نے مذاق اڑا کر اور دشمنی کر کے میرے حبیب اور میرے نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تکلیف دی ہے۔ 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح المعانی، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۷، ۹/۶۴-۶۵۔
2…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۷، ۳/۲۷۷، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۷، ۵/۴۸۰، ملتقطاً۔