تووہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اپنی نعمت کو ان پر عذاب سے بدل دے۔(1)
وَ اِذَا رَاٰکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ یَّتَّخِذُوۡنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ؕ اَہٰذَا الَّذِیۡ یَذْکُرُ اٰلِہَتَکُمْ ۚ وَہُمۡ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ہُمْ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب کافر تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا کیا یہ ہیں وہ جو تمہارے خداؤں کو برا کہتے ہیں اور وہ رحمن ہی کی یاد سے منکر ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب کافر آپ کو دیکھتے ہیں توآپ کو صرف ہنسی مذاق بنالیتے ہیں ۔ کیا یہ وہ آدمی ہے جو تمہارے خداؤں کو برا کہتا ہے اور وہ (کافر) رحمن ہی کی یاد سے منکر ہیں۔
{وَ اِذَا رَاٰکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا:اور جب کافر آپ کو دیکھتے ہیں ۔} گزشتہ آیت میں سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصال کی باتیں کرنے والوں کوجواب دیا گیا، اب اس آیت میں ان لوگوں کو جواب دیا جا رہا ہے جو مَعَاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ مَسخرہ پن کیا کرتے تھے۔ شانِ نزول:یہ آیت ابوجہل کے بارے میں نازِل ہوئی۔ ایک مرتبہ حضور اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے جارہے تھے تو ابو جہل آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیکھ کر ہنسا اور اپنے ساتھ موجود لوگوں سے کہنے لگا کہ: یہ بنی عبد ِمناف کے نبی ہیں ،پھر وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے : کیا یہ وہ آدمی ہے جو تمہارے خداؤں کو برا کہتا ہے۔‘‘ اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،یہ آپ پر اپنے خداؤں کو برا کہنے کا عیب لگاتے ہیں حالانکہ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ رحمن ہی کی یاد سے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم رحمن کو جانتے ہی نہیں ۔ اس جہالت اور گمراہی میں مبتلا ہونے کے باوجود آپ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ ہنسی کے قابل توخود ان کا اپنا حال ہے ۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…شعب الایمان، الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴/۱۲۷، روایت نمبر: ۴۵۳۶۔
2…خازن ، الانبیاء ، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳/۲۷۷، مدارک ، الانبیاء ، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۷۱۶، روح البیان، الانبیاء ، تحت الآیۃ: ۳۶، ۵/۴۷۹-۴۸۰، ملتقطاً۔