Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
311 - 695
و تکلیف ،تندرستی و بیماری ، دولت مندی و ناداری، نفع اور نقصان کے ذریعے آزماتے ہیں تاکہ ظاہر ہو جائے کہ صبر و شکر میں تمہارا کیا درجہ ہے اور بالآخر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے اورہم تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں گے۔(1)
مصیبت آنے پر صبر اور نعمت ملنے پر شکر کرنے کی ترغیب:
	ا س سے معلوم ہو اکہ بعض اوقات مصیبت نازل کر کے یا نعمت عطا کر کے بندے کواس بات میں آزمایا جاتا ہے کہ وہ مصیبت آنے پر کتنا صبر کرتا اور نعمت ملنے پر کتنا شکر کرتا ہے،لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ جب وہ     محتاجی یا بیماری وغیرہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو شکوہ شکایت نہ کرے بلکہ اس میں اللّٰہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہے اور جب اسے مالداری اور صحت وغیرہ کوئی نعمت ملے تو وہ اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے ۔ ترغیب کے لئے یہاں مصیبت پر صبر اور نعمت پر شکر کرنے سے متعلق 4اَحادیث ملاحظہ ہوں۔
(1)…حضرت ابو سعید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور انورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ جو صبر کرنا چاہے گا اللّٰہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق عطا فرمادے گا اور صبر سے بہتر اور وسعت والی عطا کسی پر نہیں کی گئی۔(2)
(2)…حضر ت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدار رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک زیادہ اجر سخت آزمائش پر ہی ہے اور اللّٰہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے، تو جو اس کی قضا پر راضی ہو اس کے لئے رضا ہے اور جوناراض ہو اس کے لئے ناراضی ہے۔(3)
(3)…حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روا یت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جسے چار چیزیں عطا کی گئیں اسے دنیا و آخرت کی بھلائی عطا کی گئی :(۱) شکر کرنے والا دل۔ (۲) اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والی زبان۔ (۳) مصیبت پر صبر کرنے والا بدن۔ (۴) اس کے مال اور عزت میں خیانت نہ کرنے والی بیوی۔(4)
(4)…حضرت حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جب اللّٰہ تعالیٰ کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر کامطالبہ فرماتا ہے، اگر وہ اس کا شکر کریں تو اللّٰہ تعالیٰ انہیں زیادہ دینے پر قادر ہے اور اگر وہ ناشکری کریں
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳/۲۷۶۔
2…مسلم، کتاب الزکاۃ، باب فضل التعفّف والصبر، ص۵۲۴، الحدیث: ۱۲۴(۱۰۵۳)۔
3…ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب الصبر علی البلاء، ۴/۳۷۴، الحدیث: ۴۰۳۱۔
4…معجم الکبیر، طلق بن حبیب عن ابن عباس، ۱۱/۱۳۴، الحدیث: ۱۱۲۷۵۔