Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
310 - 695
{وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبْلِکَ الْخُلْدَ:اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے ہمیشہ رہنا نہ بنایا۔}  گزشتہ آیات میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے قادرِمُطْلَق ہونے کی نشانیاں بیان فرمائیں اور اسی کے تحت اپنی نعمتوں کابھی بیان فرمایا، اب ان آیات میں بتایا جارہا ہے کہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور اس میں ہرچیز کوفنا ہونا ہے لہٰذا اس میں دل نہ لگاؤ اور نہ ہی اس دنیا کے عجائب وغرائب اور اس کی آرائشوں پرجان ودل سے قربان ہوجاؤ بلکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تویہ چیزیں تمہاری آزمائش کے لیے پیدا کی ہیں لہٰذا اپنی ابدی زندگی پر نظر رکھتے ہوئے اسی کی تیاری کرو۔ شانِ نزول: رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دشمن اپنی گمراہی اوردشمنی کی وجہ سے کہتے تھے کہ ہم حوادثِ زمانہ کا انتظار کررہے ہیں، عنقریب ایسا وقت آنے والاہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وفات ہوجائے گی ۔اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ دشمنانِ رسول کے لئے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں کیونکہ ہم نے دنیا میں کسی آدمی کے لئے ہمیشگی نہیں رکھی۔ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا اگر آپ انتقال فرما جائیں تو یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے اور انہیں موت کے پنجے سے رہائی مل جائے گی ؟جب ایسا نہیں ہے تو پھر وہ کس بات پر خوش ہوتے ہیں؟ اورحقیقت یہ ہے کہ ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔(1)
کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ؕ وَ نَبْلُوۡکُمۡ بِالشَّرِّ وَ الْخَیۡرِ فِتْنَۃً ؕ وَ اِلَیۡنَا تُرْجَعُوۡنَ ﴿۳۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں برائی اور بھلائی سے جانچنے کو اور ہماری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور ہم برائی اور بھلائی کے ذریعے تمہیں خوب آزماتے ہیں اور ہماری ہی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
{وَ نَبْلُوۡکُمۡ بِالشَّرِّ وَ الْخَیۡرِ فِتْنَۃً:اور ہم برائی اور بھلائی کے ذریعے تمہیںخوب آزماتے ہیں۔} یعنی ہم تمہیں راحت
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۴-۳۵، ۳/۲۷۶۔