بنایا جائے۔ صوفیاءِ کرام رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْفرماتے ہیں کہ ایک گھڑی کی فکر ہزار سال کے اس ذکر سے افضل ہے جو بغیر فکر کے ہو۔
وَہُوَالَّذِیۡ خَلَقَ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ وَالشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ ؕ کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسْبَحُوۡنَ ﴿۳۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی ہے جس نے بنائے رات اور دن اور سورج اور چاند ہر ایک ایک گھیرے میں پَیر رہا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ۔ سب ایک گھیرے میں تیر رہے ہیں۔
{وَہُوَالَّذِیۡ خَلَقَ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ:اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو پیدا کیا ۔} ارشاد فرمایا کہ وہی اکیلا معبود ہے جس نے رات کو تاریک بنایا تاکہ لوگ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن بنایا تاکہ اس میں معاش وغیرہ کے کام انجام دیں اور سورج کو پیدا کیا تاکہ وہ دن کا چراغ ہو اور چاند کو پیدا کیا تاکہ وہ رات کا چراغ ہو ۔یہ سب ایک گھیرے میں ا یسے تیر رہے ہیں جس طرح تیراک پانی میں تیرتا ہے۔(1)
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبْلِکَ الْخُلْدَ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مِّتَّ فَہُمُ الْخٰلِدُوۡنَ ﴿۳۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے دنیا میں ہمیشگی نہ بنائی تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ تو یہ ہمیشہ رہیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے (دنیا میں) ہمیشہ رہنا نہ بنایا تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ تو یہ دوسرے لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۳، ص۷۱۵، خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۳، ۳/۲۷۶، ملتقطاً۔