سُبُلًا لَّعَلَّہُمْ یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۳۱﴾ وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوۡظًا ۚۖ وَّ ہُمْ عَنْ اٰیٰتِہَا مُعْرِضُوۡنَ ﴿۳۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور زمین میں ہم نے لنگر ڈالے کہ انھیں لے کر نہ کانپے اور ہم نے اس میں کشادہ راہیں رکھیں کہ کہیں وہ راہ پائیں ۔ اور ہم نے آسمان کو چھت بنایا نگاہ رکھی گئی اور وہ اس کی نشانیوں سے روگرداں ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور زمین میں ہم نے مضبوط لنگر ڈال دئیے تاکہ لوگوں کو لے کر حرکت نہ کرتی رہے اور ہم نے اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ وہ راستہ پالیں۔ اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا اور وہ لوگ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
{وَجَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ:اور زمین میں ہم نے مضبوط لنگر ڈال دئیے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے زمین میں مضبوط پہاڑ قائم کر دئیے تاکہ زمین جم جائے ،ٹھہری رہے اور غیر مُتوازن حرکت نہ کرے اورلوگ اس پر آرام وسکون کے ساتھ چل سکیں اور اللّٰہ تعالیٰ نے اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ اپنے سفروں میں راستہ پالیں اور جن مقامات کا ارادہ کریں وہاں تک پہنچ سکیں ۔
{وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوۡظًا:اور ہم نے آسمان کوایک محفوظ چھت بنایا ۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے آسمان کو ایک گرنے سے محفوظ چھت بنایا اور کافروں کا حال یہ ہے کہ وہ آسمانی کائنات سورج ، چاند ، ستارے اور اپنے اپنے اَفلاک میں ان کی حرکتوں کی کیفیت اور اپنے اپنے مَطالع سے ان کے طلوع اور غروب اور ان کے احوال کے عجائبات جو عالَم کو بنانے والے کے وجود، اس کی وحدت اور اس کی قدرت و حکمت کے کمال پر دلالت کرتے ہیں، ان سب سے اِعراض کرتے ہیں اور ان دلائل سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔(1)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ریاضی اور فلکیات کا علم اعلیٰ علوم میں سے ہے جبکہ انہیں اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۲، ۳/۲۷۶۔