پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ’’حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھ لو، پھر جو وہ جواب دیں مجھے بھی بتانا۔ وہ شخص حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے پاس گیا اور ان سے یہی سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ہاں آسمان ملا ہوا تھا اس سے بارش نہیں ہوتی تھی اور زمین بھی ملی ہوئی تھی کوئی چیز نہ اگاتی تھی پھر جب اللّٰہ تعالیٰ نے زمین پرمخلوق کو پیدا کیا تو آسمان کو بارش کے ساتھ اور زمین کونباتات کے ساتھ پھاڑ دیا۔ وہ شخص حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس واپس آیا اور انہیں حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کاجواب سنایا تو حضرت عبداللّٰہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا ’’ بے شک حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو علم عطا کیا گیا ہے، انہوں نے سچ اور صحیح فرمایا ہے، وہ بالکل اسی طرح تھے۔(1)
{وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ:اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی ۔} ہر جاندار چیز کو پانی سے بنانے سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں: (1) اس سے مراد یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے پانی کو جانداروں کی حیات کاسبب بنایاہے ۔ (2) اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر جاندار پانی سے پیدا کیا ہوا ہے۔ (3) پانی سے نطفہ مراد ہے۔(2)
{اَفَلَا یُؤْمِنُوۡنَ:تو کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے؟} اس سے مراد یہ ہے کہ کیا وہ ایسا نہیں کریں گے کہ ان دلائل میں غور و فکر کریں اور اِس کے ذریعے اُس خالق کو جان لیں جس کا کوئی شریک نہیں اور شرک کا طریقہ چھوڑ کر اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں۔(3)
اس آیت ِمبارکہ کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ دور کے تمام سیکولر اور مُلحد مفکّرین کو چاہئے کہ وہ ان دلائل میں غورو فکر کریں جو خدا کے موجود ہونے پر دلالت کرتے ہیں اور خدا کے موجود نہ ہونے کا نظریہ چھوڑ کراس خدا پر ایمان لے آئیں جو اس کائنات کو پیدا کرنے والااور اس کے نظام کو چلانے والا ہے۔
وَجَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَبِہِمْ وَجَعَلْنَا فِیۡہَا فِجَاجًا
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…حلیۃ الاولیاء، ذکر الصحابۃ من المہاجرین، عبد اللّٰہ بن عباس، ۱/۳۹۵، روایت نمبر ۱۱۲۸۔
2…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳/۲۷۵-۳۷۶۔
3…تفسیر کبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۰، ۸/۱۳۸۔