Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
306 - 695
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوۡنَ ﴿۳۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا کافروں نے یہ خیال نہ کیا کہ آسمان اور زمین بند تھے تو ہم نے انہیں کھولا اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا کافروں نے یہ خیال نہ کیا کہ آسمان اور زمین ملے ہوئے تھے تو ہم نے انہیں کھول دیا اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہیںلائیں گے؟
{اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا:کیا کافروں نے یہ خیال نہ کیا۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ کی شانِ قدرت اور شانِ تخلیق کا بیان ہے اور اسی میں عقیدہ ِشرک کی تردید بھی ہے کہ جب ان چیزوں کی تخلیق میں اللّٰہ تعالیٰ کاکوئی شریک نہیں توعبادت میں اس کاکوئی شریک کیسے ہوسکتاہے ؟ چنانچہ ارشاد فرمایاکہ کیا کافروں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین ملے ہوئے تھے تو ہم نے انہیں کھول دیا اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا فرمایا تو ان روشن نشانیوں کے باوجود کیا مشرکین ایمان نہیں لائیں گے؟(1)
 آسمان و زمین ملے ہوئے ہونے سے کیا مراد ہے؟
	اس آیت میں فرمایا گیا کہ آسمان و زمین ملے ہوئے تھے،اس سے ایک مراد تویہ ہے کہ ایک دوسرے سے ملا ہوا تھا ان میں فصل و جدائی پیدا کرکے انہیں کھولا گیا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ آسمان اس طور پربند تھا کہ اس سے بارش نہیں ہوتی تھی اور زمین اس طور پربند تھی کہ اس سے نباتات پیدا نہیں ہوتی تھیں، تو آسمان کا کھولنا یہ ہے کہ اس سے بارش ہونے لگی اور زمین کا کھولنا یہ ہے کہ اس سے سبزہ پیدا ہونے لگا۔(2)
	اس معنی کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے، چنانچہ حلیۃ الاولیاء میں ہے کہ ایک شخص حضرت ِعبداللّٰہبن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس آیا اور آسمانوں اور زمین کے بارے اللّٰہ تعالیٰ کے اس فرمان ’’کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰہُمَا‘‘کے متعلق
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۰، ۸/۱۳۶، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۰، ۵/۴۷۰-۴۷۱، ملتقطاً۔
2…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳/۲۷۵۔