فرشتے دنیا میں شفاعت کرتے ہیں اور آخرت میں بھی کریں گے:
یاد رہے کہ فرشتے دنیا میں بھی شفا عت کرتے ہیں ،کیونکہ وہ زمین پر رہنے والے ایمان والوں کے لئے اللّٰہ تعالیٰ سے بخشش مانگتے ہیں ،جیساکہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اَلَّذِیۡنَ یَحْمِلُوۡنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَ یُؤْمِنُوۡنَ بِہٖ وَ یَسْتَغْفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحْمَۃً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اتَّبَعُوۡا سَبِیۡلَکَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَحِیۡمِ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: عرش اٹھانے والے اور اس کے ارد گردموجود (فرشتے) اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور مسلمانوں کی بخشش مانگتے ہیں ۔اے ہمارے رب!تیری رحمت اور علم ہرشے سے وسیع ہے تو انہیں بخش دے جوتوبہ کریں اور تیرے راستے کی پیروی کریں اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔
اور ارشاد فرماتا ہے
’’وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوۡنَ لِمَنۡ فِی الْاَرْضِ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور زمین والوں کے لیے معافی مانگتے ہیں۔
اور آخرت میں بھی فرشتے مسلمانوں کی شفاعت کریں گے جیسا کہ زیرِ تفسیر آیت سے معلوم ہو رہا ہے اور مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ (قیامت کے دن) اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: فرشتوں نے، نبیوں نے اور ایمان والوں نے شفاعت کر لی اور اب اَرحم الرّاحِمین کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہا، پھر اللّٰہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی ایک تعداد کو جہنم سے نکال لے گا جنہوں نے کبھی کوئی نیک عمل نہ کیا ہو گا۔(3)
{وَہُمۡ مِّنْ خَشْیَتِہٖ مُشْفِقُوۡنَ:اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں۔} یعنی فرشتے ا س مقام و مرتبے کے باوجود اللّٰہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں بلکہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے خوف سے ڈر رہے ہیں۔(4)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مومن: ۷۔
2…شوری:۵۔
3…مسلم، کتاب الایمان، باب معرفۃ طریق الرؤیۃ، ص۱۱۲، الحدیث: ۳۰۲(۱۸۳)۔
4…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۸، ۳/۲۷۵۔