Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
302 - 695
نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا تھا ۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کافر فرشتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیتے ہیں جبکہ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ فرشتے اللّٰہ تعالیٰ کی اولاد نہیں بلکہ وہ اس کے برگزیدہ اور مکرم بندے ہیں ،وہ کسی بات میں اللّٰہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کرتے ،صرف وہی بات کرتے ہیں جس کا اللّٰہ تعالیٰ انہیں حکم دیتا ہے اور وہ کسی اعتبار سے اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ اس کے ہر حکم پر عمل کرتے ہیں۔(1)
یَعْلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ وَلَا یَشْفَعُوۡنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی وَہُمۡ مِّنْ خَشْیَتِہٖ مُشْفِقُوۡنَ ﴿۲۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور شفاعت نہیں کرتے مگر اس کے لیے جسے وہ پسند فرمائے اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان:وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ صرف اسی کی شفاعت کرتے ہیں جسے اللّٰہ پسند فرمائے اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں۔
{یَعْلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ:وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے۔} اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ جو کچھ فرشتوں نے کیا اور جو کچھ وہ آئندہ کریں گے سب کچھ اللّٰہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ جانتاہے کہ فرشتوں کی تخلیق سے پہلے کیاتھااوران کی تخلیق کے بعد کیاہوگا۔(2)
{وَلَا یَشْفَعُوۡنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی:اور وہ صرف اسی کی شفاعت کرتے ہیں جسے اللّٰہ پسند فرمائے۔}حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ’’لِمَنِ ارْتَضٰی‘‘سے وہ لوگ مراد ہیں جو توحید کے قائل ہوں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے ہر وہ شخص مراد ہے جس سے اللّٰہ تعالیٰ راضی ہو(جن کا مسلمان ہونا بہرحال ضروری ہے۔)(3)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ۳/۲۷۵۔
2…بغوی، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۸، ۳/۲۰۴۔
3…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۸، ۳/۲۷۵۔