رہے کہ زمین و آسمان میں میرے علاوہ کوئی معبود نہیں جو عبادت کئے جانے کامستحق ہو، تو اخلاص کے ساتھ میری عبادت کرو اور صرف مجھے ہی معبود مانو۔(1)
آیت ’’وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے تین باتیں معلوم ہو ئیں
(1)…ہر نبی عَلَیْہِ السَّلَام پر وحی آتی تھی۔ نبوت کے لئے وحی لازم و ضروری ہے۔
(2)… تمام اَنبیاء اور رُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو مبعوث فرمانے کی بنیادی حکمت اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ثابت کرنا اور اخلاص کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔
(3)…تمام اَنبیاء اور رُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عقائد میں متفق ہیں ،اعمال میں فرق ہے۔کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَامکے دین میں شرک جائز نہیں ہوا ، لہٰذا سجدہِ تعظیمی شرک نہیں کیونکہ بعض انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں یہ ہوا ہے البتہ ہماری شریعت میں حرام ضرور ہے۔
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾ لَایَسْبِقُوۡنَہٗ بِالْقَوْلِ وَہُمۡ بِاَمْرِہٖ یَعْمَلُوۡنَ ﴿۲۷﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور بولے رحمن نے بیٹا اختیار کیا پاک ہے وہ بلکہ بندے ہیں عزت والے ۔بات میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم پر کاربند ہوتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور کافروں نے کہا: رحمن نے اولاد بنالی ہے۔وہ پاک ہے ، (فرشتے)بلکہ عزت والے بندے ہیں۔ وہ کسی بات میں اللّٰہ سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔
{وَقَالُوا:اور کافروں نے کہا۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہ آیت خزاعہ قبیلے کے بارے میں نازِل ہوئی جنہوں
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیر طبری، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۵، ۹/۱۶۔