و مرتبے کے باوجودبارگاہ ِ الٰہی سے اسے مَردُود و رسوا کر کے نکال دیا گیا، جب اللّٰہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق پر اعتراض کا یہ انجام ہے تو جو اللّٰہ تعالیٰ کی شان اور ا س کے افعال وصفات پر اعتراض کرنے کی جرأت کرے گا اس کا کیا حال ہو گا۔
اسی طرح نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر اعتراض کرنا بھی بہت بد ترین ہے کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی خواہش سے کچھ کہتے ہیں نہ کرتے ہیں بلکہ جو کہتے اور کرتے ہیں سب اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تو آپ پر اعتراض کرنا اللّٰہ تعالیٰ پر اعتراض کرنا ہے اور اس میں ہلاکت و بربادی ہے،جبکہ اللّٰہ تعالیٰ کے اولیاء اور بزرگ علماء پر اعتراض کرنا خیر و بھلائی سے محروم کر دیتا ہے ، ان کی صحبت کی برکت اور علم میں اضافہ ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ تو اعتراض کرنے والوں کا دُنْیَوی انجام ہے اور آخرت میں ان کا حال یہ ہو گا کہ اللّٰہ تعالیٰ ان سے کلام فرمائے گا نہ ان کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا اور ان کے لئے جہنم کا دردناک عذاب ہو گا۔(1)
{وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ:اور لوگوں سے سوال کیا جائے گا۔}ارشاد فرمایا کہ لوگوں سے ان کے کاموں کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور قیامت کے دن ان سے کہا جائے گا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ کیونکہ سب اس کے بندے اوراس کی ملکیت ہیں اور سب پر اس کی اطاعت وفرمانبرداری لازم ہے۔(2)
اس آیت سے اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک اور دلیل بھی معلوم ہوتی ہے کہ جب سب اللّٰہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں تو ان میں سے کوئی خدا کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ ایک ہی چیز مالک اور مملوک نہیں ہو سکتی۔
اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً ؕ قُلْ ہَاتُوۡا بُرْہَانَکُمْ ۚ ہٰذَا ذِکْرُ مَنۡ مَّعِیَ وَ ذِکْرُ مَنۡ قَبْلِیۡ ؕ بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَایَعْلَمُوۡنَ ۙ الْحَقَّ فَہُمۡ مُّعْرِضُوۡنَ ﴿۲۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا اللّٰہ کے سوا اور خدا بنا رکھے ہیں تم فرماؤ اپنی دلیل لاؤ یہ قرآن میرے ساتھ والوں کا ذکر ہے اور مجھ سے اگلوں کا تذکرہ بلکہ ان میں اکثر حق کو نہیں جانتے تو وہ رو گرداں ہیں۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۳، ۵/۴۶۵-۴۶۶، ملخصاً۔
2…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳/۲۷۴۔