Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
297 - 695
{فَسُبْحٰنَ اللہِ:تو اللّٰہ پاک ہے ۔}یعنی عرش کا مالک اللّٰہ تعالیٰ اپنے بارے میں لوگوں کی بنائی ہوئی ان تمام باتوں سے پاک ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں ،لہٰذا نہ ا س کی کوئی اولاد ہے اور نہ ہی کوئی اس کا شریک ہے۔
لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے سوال ہوگا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ سے اس کام کے متعلق سوال نہیں کیا جاتا جو وہ کرتا ہے اور لوگوں سے سوال کیا جائے گا۔ 
{لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ:اللّٰہ سے اس کام کے متعلق سوال نہیں کیا جاتا جو وہ کرتا ہے۔}یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی عظمت وشان یہ ہے کہ وہ جو کام کرتا ہے اس کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ سے پوچھا نہیں جا سکتا کیونکہ وہ حقیقی مالک ہے، جو چاہے کرے ، جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلت دے ، جسے چاہے سعادت دے اورجسے چاہے بدبخت کرے، وہ سب کا حاکم ہے اور کوئی اس کا حاکم نہیں جو اس سے پوچھ سکے۔(1)
	 یہاں پوچھنے سے مراد سرزنش اور حساب کا پوچھنا ہے یعنی کسی مخلوق کی جرأت نہیں کہ رب عَزَّوَجَلَّسے عتاب کی پوچھ گچھ کرے بلکہ رب تعالیٰ ان سے پوچھ گچھ کرے گا۔البتہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اطمینانِ قلب یاکشف ِحقیقت کے لیے سوال کرسکتے ہیں جیساکہ قرآنِ مجید ،فرقانِ حمید میں ہی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کااطمینانِ قلب کے لیے مُردوں کوزندہ کرنے کاسوا ل کرنا منقول ہے یا فرشتوں نے رب تعالیٰ سے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی پیدائش کی حکمت پوچھی تھی۔البتہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ سوال اگرچہ حسنِ نیت سے ہولیکن کسی دوسری حکمت کی وجہ سے مُطْلَقاً ہی سوال سے منع کردیا جاتا ہے جیسا کہ اس کے متعلق بھی روایات موجود ہیں۔
بد ترین اعتراضات اور ان کا انجام:
	یاد رہے کہ سب سے بد ترین اعتراض یہ ہے کہ کوئی اللّٰہ تعالیٰ کے کسی فعل پر اعتراض کرے ،جیسے شیطان نے اللّٰہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی مخلوق یعنی حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر اعتراض کیا تواس کی تمام تر عبادت و ریاضت اور مقام
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۳، ص۷۱۳، خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳/۲۷۴، ملتقطاً۔