ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر آسمان و زمین میں اللّٰہ کے سوا اورمعبود ہوتے تو ضرور آسمان و زمین تباہ ہوجاتے تولوگوں کی بنائی ہوئی باتوں سے اللّٰہ پاک ہے جوعرش کا مالک ہے۔
{لَوْکَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا:اگر آسمان و زمین میں اللّٰہ کے سوا اور معبود ہوتے تو ضرور آسمان و زمین تباہ ہوجاتے ۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ کے واحد معبود ہونے کی ایک قطعی دلیل بیان کی گئی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آسمانوں یازمین پراللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور خدا ہوتا تو سارے عالَم کانظام درہم برہم ہوجاتا، کیونکہ اگر خدا سے وہ خدا مراد لئے جائیں جن کی خدائی کا بت پرست اعتقاد رکھتے ہیں تو عالَم کے فساد کا لازم ہونا ظاہر ہے کیونکہ بت پرستوں کے خدا جمادات ہیں اوروہ عالَم کا نظام چلانے پر اَصْلاً قدرت نہیں رکھتے ،تو جب قدرت ہی کچھ نہیں تو وہ کائنات کو کیسے چلاتے ؟ اور اگر خدا سے مُطْلَقاً وہ سارے خدا مراد ہوں جنہیں کوئی بھی مانتا ہے تو بھی جہان کی تباہی یقینی ہے ،کیونکہ اگر دو خدا فرض کئے جائیں تو دو حال سے خالی نہیں ،(1)وہ دونوں کسی شے پرمتفق ہوں گے۔(2)وہ دونوں کسی شے پر مختلف ہوں گے۔ اگر ایک چیز پر متفق ہوئے تواس سے لازم آئے گا کہ ایک چیز دونوں کی قدرت میں ہو اور دونوں کی قدرت سے واقع ہو۔ یہ محال ہے، اور اگر مختلف ہوئے تو ایک چیز کے بارے میں دونوں کے ارادوں کی مختلف صورتیں ہوں گی، (۱) دونوں کے ارادے ایک ساتھ واقع ہوں گے۔اس صورت میں ایک ہی وقت میں وہ چیز موجود اور معدوم دونوں ہوجائے گی ۔ (۲) دونوں کے ارادے واقع نہ ہوں۔ اس صورت میں وہ چیز نہ موجود ہو گی نہ معدوم۔ (۳) ایک کا ارادہ واقع ہو اور دوسرے کا واقع نہ ہو۔ یہ تمام صورتیں محال ہیں کیونکہ جس کی بات پوری نہ ہوگی وہ خدا نہیں ہوسکتا حالانکہ جو صورت فرض کی گئی ہے وہ خدا فرض کرکے کی گئی ہے، تو ثابت ہوا کہ بہر صورت ایک سے زیادہ خدا ماننے میں نظامِ کائنات کی تباہی اورفساد لازم ہے۔(1)
اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت سے متعلق یہ انتہائی مضبوط دلیل ہے اور اسے بیان کرنے کے مختلف انداز بڑی تفصیل کے ساتھ علمِ کلام کے ماہر علماء کی کتابوں میں مذکور ہیں، عوام کی تفہیم کے لئے اتنا ہی کافی ہے جتنابیان کیا گیا البتہ جو علمائِ کرام اس کی مزید تفصیلات جاننا چاہیں وہ علمِ کلام کے معتبر اور با اعتماد ماہرین کی لکھی ہوئی کتابوں کی طرف رجو ع فرمائیں۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۱، ۸/۱۲۷، ملخصاً۔