Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
294 - 695
ترجمۂکنزالایمان:رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور سستی نہیں کرتے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:رات اوردن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ،وہ سستی نہیں کرتے۔ 
{یُسَبِّحُوۡنَ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ:رات اوردن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔}یعنی فرشتے ہر وقت اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اور اس میں وہ کسی طرح کی سستی نہیں کرتے۔(1)
 فرشتوں کی تسبیح کی کیفیت:
	علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’فرشتوں کے لئے تسبیح ایسے ہے جیسے ہمارے لئے سانس لینا تو جس طرح ہمارا کھڑ ا ہونا ، بیٹھنا،کلام کرنا اور دیگر کاموں میں مصروف ہونا ہمیں سانس لینے سے مانع نہیں ہوتا اسی طرح فرشتوں کے کام انہیں تسبیح سے مانع نہیں ہوتے۔(2)
	اور دلیل کے طور پر آپ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے یہ روایت ذکر فرمائی کہ حضرت عبداللّٰہ بن حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:میں نے حضرت کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اس آیت کے بارے میں پوچھا کہ کیا فرشتے پیغام رسانی میں مصروف نہیں ہوتے؟ کیا وہ دیگر کاموں میں مشغول نہیں ہوتے؟ (اورجب وہ ان چیزوں میں مصروف ہوتے ہیں تو پھر ہر وقت وہ تسبیح کس طرح کرتے ہیں) حضرت کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’ فرشتوں کے لیے تسبیح کو ایسے بنایا گیا ہے جیسے تمہارے لیے سانس بنائی گئی ہے ۔کیا آپ کھاتے ،پیتے ،آتے جاتے اور بولتے وقت سانس نہیں لے رہے ہوتے ؟ بالکل یہی کیفیت ان کی تسبیح کی ہے۔(3)
قرب و شرف رکھنے والوں کا وصف:
	علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں ’’فرشتوں کے بارے میں یہ خبر دینے سے مقصود مسلمانوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کرنے پر ابھارنا اور کافروں کو اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت وعبادت ترک کرنے پر شرم دلانا ہے کیونکہ عبادت اور تسبیح کرنا قرب اور شرف رکھنے والے لوگوں کا وصف ہے اور اسے چھوڑ دینا (اللّٰہ تعالیٰ کی 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۰، ۳/۲۷۳۔
2…روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲۰، ۵/۴۶۲۔
3…شعب الایمان، الثالث من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی معرفۃ الملائکۃ، ۱/۱۷۸، روایت نمبر:  ۱۶۱۔