{بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ:بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں۔}یعنی ہماری شان یہ نہیں کہ ہم کھیل کے لئے کوئی چیز اختیار کریں بلکہ ہماری شان تو یہ ہے کہ ہم حق کو باطل پر غالب کر تے ہیں تو وہ باطل کوپورا مٹادیتا ہے اوراسی وقت باطل مکمل طور پر ختم ہو کر رہ جاتا ہے اور اے کافرو! تمہارے لئے اُن باتوں کی وجہ سے بربادی ہے جو تم اللّٰہ تعالیٰ کی شان میں کرتے ہو اور اس کے لئے بیوی اور بچہ ٹھہراتے ہو۔(1)
وَلَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ وَمَنْ عِنۡدَہٗ لَا یَسْتَکْبِرُوۡنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَلَا یَسْتَحْسِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اسی کے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں اور اس کے پاس والے اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اسی کی ملک ہیں اورجواللّٰہ کے پاس ہیںوہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکتے ہیں۔
{وَلَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ:اور جوآسمانوں اور زمین میں ہیں سب اسی کی مِلک ہیں۔}ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات کا مالک اللّٰہ تعالیٰ ہے اور سب اس کی ملک ہیں تو کوئی اس کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے ! ملکیت ہونے اور اولاد ہونے میں مُنافات ہے اور مقرب فرشتے جنہیں اللّٰہ تعالیٰ کے کرم سے اس کی بارگاہ میں قرب و منزلت کا ایک خاص مقام حاصل ہے وہ اس کی عبادت کرنے سے تکبر کرتے ہیں اور نہ ہی عبادت کرنے سے تھکتے ہیں۔(2)
یُسَبِّحُوۡنَ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ لَایَفْتُرُوۡنَ ﴿۲۰﴾
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ابو سعود، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳/۵۰۹۔
2…مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۹،ص۷۱۲۔