Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
290 - 695
نہیں اوران آسائشوں کی طرف لوٹ آؤجو تمہیں دی گئی تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف لوٹ آؤ، شاید تم سے سوال کیا جائے کہ تم پر کیا گزری اور تمہارے مال و دولت کا کیا ہوا؟ تو تم دریافت کرنے والے کو اپنے علم اور مشاہدے سے جواب دے سکو۔(1)
قَالُوۡایٰوَیۡلَنَاۤ اِنَّاکُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴﴾ فَمَا زَالَتۡ تِّلْکَ دَعْوٰىہُمْ حَتّٰی جَعَلْنٰہُمْ حَصِیۡدًا خٰمِدِیۡنَ ﴿۱۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے ۔تو وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کردیا کاٹے ہوئے بجھے ہوئے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان:انہوں نے کہا: ہائے ہماری بربادی! بیشک ہم ظالم تھے۔ تو یہی ان کی چیخ و پکاررہی یہاں تک کہ ہم نے انہیں کٹے ہوئے ، بجھے ہوئے کردیا۔ 
{قَالُوۡایٰوَیۡلَنَا:انہوں نے کہا: ہائے ہماری بربادی۔}جب وہ بھاگ کر نجات پانے سے مایوس ہو گئے اور انہیں عذاب نازل ہونے کا یقین ہو گیا تو انہوں نے کہا:ہائے ہماری بربادی! بیشک ہم ظالم تھے۔ یہ ان کی طرف سے اپنے گناہ کا اعتراف اور اس پر ندامت کا اظہار تھا لیکن چونکہ عذاب دیکھنے کے بعد انہوں نے گناہ کا اقرار کیا اوراس پر نادِم ہوئے اس لئے یہ اعتراف انہیں کام نہ آیا۔(2)
{فَمَا زَالَتۡ تِّلْکَ دَعْوٰىہُمْ:تو یہی ان کی چیخ و پکاررہی۔}ارشاد فرمایا کہ ان کی یہی چیخ و پکاررہی کہ ہائے ہماری بربادی! ہم ظالم تھے۔ یہاں تک کہ ہم نے انہیں کھیت کی طرح کٹے ہوئے کر دیا کہ تلواروں سے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے اوروہ بجھی ہوئی آ گ کی طرح ہو گئے ۔(3)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ۵/۴۵۸، خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ۳/۲۷۲، جمل، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ۵/۱۲۱-۱۲۲، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳،ص۷۱۱، ملتقطاً۔
2…ابو سعود، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳/۵۰۸۔
3…جلالین، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۲۷۰۔