نے ارشاد فرمایا: اے کافرو! تم اپنے مال و دولت کی وسعت سے دھوکہ نہ کھاؤ اور اپنے اموال و اولاد پر غرور نہ کرو کیونکہ ہم نے بہت سی بستیوں کے کفار کو تباہ و برباد کر دیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوم پیدا کردی اور جو کچھ ان کافروں کے ساتھ ہوا وہ تمہارے ساتھ بھی ہو سکتاہے۔(1)
فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا ہُمۡ مِّنْہَا یَرْکُضُوۡنَ ﴿ؕ۱۲﴾ لَاتَرْکُضُوۡا وَارْجِعُوۡۤا اِلٰی مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیۡہِ وَ مَسٰکِنِکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۱۳﴾
ترجمۂکنزالایمان:تو جب انہوں نے ہمارا عذاب پایا جبھی وہ اس سے بھاگنے لگے۔نہ بھاگو اور لوٹ کے جاؤ ان آسائشوں کی طرف جو تم کو دی گئیں تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف شاید تم سے پوچھنا ہو ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جب انہوں نے ہمارا عذاب پایا تو اچانک وہ اس سے بھاگنے لگے ۔بھاگو نہیں اوران آسائشوں کی طرف لوٹ آؤجو تمہیں دی گئی تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف (لوٹ آؤ) شاید تم سے سوال کیا جائے ۔
{فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَا:تو جب انہوں نے ہمارا عذاب پایا۔}اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ان ظالموں نے اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب پایا تو اچانک وہ اس سے بھاگنے لگے ۔اس پر فرشتے کے ذریعے ان سے کہا گیا کہ تم بھاگو نہیں اوران آسائشوں کی طرف لوٹ آؤجو تمہیں دی گئی تھیں اور اپنے ان مکانوں کی طرف لوٹ آؤ جن پر تم فخر کیا کرتے تھے ،شاید لوگوں کی عادت کے مطابق تم سے تمہاری دنیا کے بارے میں سوال کیا جائے ۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ان آیات میں یمن کی سرزمین میں موجود ایک بستی میں رہنے والے لوگوں کا حال بیان ہوا ہے۔ اس بستی کا نام حصور (یا،حضور) ہے ،وہاں کے رہنے والے عرب تھے ،انہوں نے اپنے نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی اور انہیں شہید کردیا تو اللّٰہ تعالیٰ نے ان پر بُخْت نصر کو مُسَلَّط کر دیا۔ اِس نے اُن کے بعض لوگوں کو قتل کیا اور بعض کو گرفتار کرلیا، اُس کا یہ عمل جاری رہا تو وہ لوگ بستی چھوڑ کر بھاگے۔ اس پر فرشتوں نے طنز کے طور پر ان سے کہا: تم بھاگو
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…صاوی، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴/۱۲۹۲۔