Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
288 - 695
قرآنِ مجید کی تعلیمات سے منہ پھیرنے کا انجام:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم پر ایمان لانا اور ا س کے احکامات و تعلیمات پر عمل کرنا عزت و شہرت کا باعث ہے اورتاریخ اس بات پر گواہ ہے جب تک مسلمانوںنے قرآنِ مجید کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور اس کی ہدایات و احکامات پر کامل طریقے سے عمل کیا تب تک وہ شہرت و نامْوری اور عزت و کرامت کی بلندیوں پر فائز رہے اورہر میدان میں کفار پر غلبہ و نصرت اور کامیابی حاصل کرتے رہے اور جب سے مسلمان قرآنِ عظیم کی تعلیمات پر عمل سے دور ہونا شروع ہوئے تب سے ان کی عزت،شہرت،ناموری اور دبدبہ ختم ہونا شروع ہو گیا اور رفتہ رفتہ کفار مسلمانوں پر غالب ہونا شروع ہو گئے اور اب مسلمانوں کا حال یہ ہو گیا ہے کہ جہاں بن پڑا وہاں کفار مسلمانوں کی سرزمین پر قابض ہیں اور جہاں نہیں بن پڑا وہاں مسلمانوں کی اِقتصادیات،معاشیات اور در پردہ مسلمانوں کی ذہنیت، سوچ اور کلچر پر قابض ہیں اور مسلم حکمرانوں کو اپنی انگلیوں کے اشاروں پر نچا رہے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ 
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر		اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
اور
درسِ قرآں گر ہم نے نہ بھلایا ہوتا	یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا
وَکَمْ قَصَمْنَا مِنۡ قَرْیَۃٍ کَانَتْ ظَالِمَۃً وَّ اَنۡشَاۡنَا بَعْدَہَا قَوْمًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۱۱﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور کتنی ہی بستیاں ہم نے تباہ کردیں کہ وہ ستمگار تھیں اور ان کے بعد اور قوم پیدا کی۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور کتنی ہی بستیاں ہم نے تباہ کردیںجو ظلم کرنے والی تھیںاور ان کے بعد ہم نے دوسری قوم پیدا کردی۔
{وَکَمْ قَصَمْنَا مِنۡ قَرْیَۃٍ:اور کتنی ہی بستیاں ہم نے تباہ کردیں۔} اس سے پہلی آیات میں کفارکی طرف سے حضور سیّد المرسَلینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت پرکئے گے اعتراضات اوران کے جوابات ذکرفرمائے گئے اور یہاں سے اِ س امت کے کفار کو کفر نہ چھوڑنے اور ایمان نہ لانے پر اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایاجا رہا ہے ۔گویا کہ اللّٰہ تعالیٰ