پینے، پہننے میں او ر پوشیدہ امور کے متعلق ان چیزوں کا علم حاصل کرے جو اس کے لیے حلال ہیں اور جو اس پر حرام ہیں ۔ یونہی خون اور اموال میں جو اس پر حلال ہے یا حرام ہے یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن سے بے خبر (غافل ) رہنا کسی کو بھی جائز نہیں ہے اور ہر شخص پر فرض ہے کہ وہ ان چیزوں کو سیکھے ۔۔۔۔اور امام یعنی حاکمِ وقت عورتوں کے شوہروں کو اور لونڈیوں کے آقاؤں کو مجبور کرے کہ وہ انہیں وہ چیزیں سکھائیں جن کا ہم نے ذکر کیا اور حاکمِ وقت پر فرض ہے کہ وہ لوگوں کی اس بارے میں پکڑ کرے اور جاہلوں کو سکھانے کی جماعتیں ترتیب دے اور ان کے لئے بیت المال کے اندر رزق مقرر کرے اور علماء پر واجب ہے کہ وہ جاہلوں کو وہ چیزیں سکھائیں جن سے وہ حق وباطل میں فرق کرلیں۔(1)
ان تمام اَقوال سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ علمِ دین سیکھنا صرف کسی ایک خاص گروہ کا کام نہیں بلکہ اپنی ضرورت کی بقدر علم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔لیکن نہایت افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت علمِ دین سے دور نظر آتی ہے ۔ نمازیوں کو دیکھیں تو چالیس چالیس سال نماز پڑھنے کے باوجود حال یہ ہے کہ کسی کو وضو کرنا نہیں آتا تو کسی کو غسل کا طریقہ معلوم نہیں، کوئی نماز کے فرائض کو صحیح طریقے سے ادا نہیں کرتا تو کوئی واجبات سے جاہل ہے، کسی کی قرأ ت درست نہیں تو کسی کا سجدہ غلط ہے۔ یہی حال دیگر عبادات کا ہے خصوصاً جن لوگوں نے حج کیا ہو ان کو معلوم ہے کہ حج میں کس قدر غلطیاں کی جاتی ہیں! ان میںاکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ بس حج کے لئے چلے جاؤ جو کچھ لوگ کر رہے ہوں گے وہی ہم بھی کرلیں گے۔ جب عبادات کا یہ حال ہے تو دیگر فرض علوم کا حال کیا ہوگا؟ یونہی حسد، بغض، کینہ، تکبر، غیبت، چغلی، بہتان اورنجانے کتنے ایسے امور ہیں جن کے مسائل کا جاننا فرض ہے لیکن ایک بڑی تعداد کو ان کی تعریف کا پتہ تک نہیں بلکہ ان کی فرضیت تک کا علم نہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کا گناہ ہونا عموماً لوگوں کو معلوم ہوتا ہے اور وہ چیزیں جن کے بارے میں بالکل بے خبر ہیں جیسے خریدوفروخت، ملازمت، مسجدو مدرسہ اور دیگر بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ ان کے کچھ مسائل بھی ہیں، بس ہر طرف ایک اندھیر نگری مچی ہوئی ہے ،ایسی صورت میں ہر شخص پر ضروری ہے خود بھی علم سیکھے اور جن پر اس کا بس چلتا ہو انہیں بھی علم سیکھنے کی طرف لائے اور جنہیں خود سکھا سکتا ہے انہیں سکھائے ۔
اگر تمام والدین اپنی اولاد کو اور تمام اساتذہ اپنے شاگردوں کو اور تمام پیر صاحبان اپنے مریدوں کو اور تمام افسران
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱/۱۷۴۔