Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
284 - 695
و صاحب ِ اِقتدار حضرات اپنے ماتحتوں کوعلمِ دین کی طرف لگا دیں تو کچھ ہی عرصے میں ہر طرف دین اور علم کا دَور دورہ ہو جائے گا اور لوگوں کے معاملات خود بخود شریعت کے مطابق ہوتے جائیں گے۔ فی الوقت جو نازک صورتِ حال ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ ایک مرتبہ سناروں کی ایک بڑی تعداد کوایک جگہ جمع کیا گیا جب ان سے تفصیل کے ساتھ ان کا طریقۂ کار معلوم کیا گیا تو واضح ہوا کہ اس وقت سونے چاندی کی تجارت کا جو طریقہ رائج ہے وہ تقریباً اسی فیصد خلافِ شریعت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہماری دیگر تجارتیں اور ملازمتیں بھی کچھ اسی قسم کی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔
	جب معاملہ اتنا نازک ہے تو ہر شخص اپنی ذمہ داری کو محسوس کرسکتا ہے، اس لئے ہر شخص پر ضروری ہے کہ علمِ دین سیکھے اور حتّی الامکان دوسروں کو سکھائے یا اس راہ پر لگائے اور یہ محض ایک مشورہ نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا حکم ہے ،چنانچہ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور تم میں سے ہرایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا پس شہر کا حکمران لوگوں پرحاکم ہے اس سے اس کے ماتحت لوگو ں کے بارے میں پوچھا جائے گا اور مرد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے اور اس سے اس کی بیوی کے بارے میں اور ان(غلام لونڈیوں ) کے بارے میں پوچھا جائے گاجن کا وہ مالک ہے۔(1)
	مذکورہ بالا حدیث میں اگرچہ ہر بڑے کو اپنے ماتحت کو علم سکھانے کا فرمایا ہے لیکن والدین پر اپنی اولاد کی ذمہ داری چونکہ سب سے زیادہ ہے اس لئے ان کو بطورِ خاص تاکید فرمائی گئی ہے ،چنانچہ حضرت عثمان الحاطبیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو سنا کہ آپ ایک شخص کو فرما رہے تھے: اپنے بیٹے کو ادب سکھاؤ، بے شک تم سے تمہارے لڑکے کے بارے میں پوچھا جائے گا جو تم نے اسے سکھایا اور تمہارے اس بیٹے سے تمہاری فرمانبرداری اور اطاعت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔(2)
	اس حدیث پر والدین کو خصوصاً غور کرنا چاہیے کیونکہ قیامت کے دن اولاد کے بارے میں یہی گرفت میں آئیں گے ،اگر صرف والدین ہی اپنی اولاد کی دینی تربیت و تعلیم کی طرف بھرپور توجہ دے لیں تو علمِ دین سے دوری کا مسئلہ حل 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…معجم صغیر، باب الدال، من اسمہ: داود، ص۱۶۱۔
2…شعب الایمان، الستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۶/۴۰۰، روایت نمبر: ۸۶۶۲۔