ومکروہِ تحریمی کا علم سیکھنا واجب ہے اور سنتوں کا علم سیکھنا سنت ہے۔
اس مفہوم کی ایک حدیث حضرت علی المرتضیٰکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، سرکا رِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: علم کا طلب کرنا ہر مومن پر فرض ہے یہ کہ وہ روزہ، نماز اور حرام اور حدود اور احکام کو جانے۔(1)
اس حدیث کی شرح میں خطیب بغدادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس فرمان ’’ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘ کا معنی یہ ہے کہ ہرشخص پر فرض ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت کے مسائل سیکھے جس پر اس کی لاعلمی کو قدرت نہ ہو۔(2)
اسی طرح کا ایک اور قول حضرت حسن بن ربیعرَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے مروی ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللّٰہبن مبارک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا کہ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ کی تفسیر کیا ہے؟آپ نے فرمایا :یہ وہ علم نہیں ہے جس کو تم آج کل حاصل کر رہے ہو بلکہ علم کاطلب کرنا اس صورت میں فرض ہے کہ آدمی کو دین کاکوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ اس مسئلے کے بارے میں کسی عالم سے پوچھے یہا ں تک کہ وہ عالم اسے بتا دے۔(3)
حضرت علی بن حسن بن شفیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہے کہ میں نے حضرت عبداللّٰہ بن مبارک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پوچھا :علم سیکھنے کے اندر وہ کیا چیز ہے جو لوگوں پر فرض ہے؟ آپ نے فرمایا :وہ یہ ہے کہ آدمی کسی کام کی طرف قدم نہ اٹھائے جب تک اس کے بارے میں سوال کر کے اس کا حکم سیکھ نہ لے، یہ وہ علم ہے جس کا سیکھنا لوگوں پر واجب ہے ۔ اورپھر اپنے اس کلام کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اگر کسی بندے کے پاس مال نہ ہو تو اس پر واجب نہیں کہ زکوٰۃ کے مسائل سیکھے بلکہ جب اس کے پاس دو سو درہم (ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونا) آجا ئے تو اس پر یہ سیکھنا واجب ہوگا کہ وہ کتنی زکوٰۃ ادا کرے گا؟ اور کب نکالے گا؟ او ر کہاں نکالے گا؟ اور اسی طرح بقیہ تمام چیزوں کے احکام ہیں ۔ (یعنی جب کوئی چیز پیش آئے گی تو اس کی ضرورت کے مسائل سیکھنا ضروری ہو جائے گا)(4)
امام ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں: ’’ہر مسلمان پر یہ بات واجب ہے کہ وہ کھانے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱/۱۶۸، الحدیث: ۱۵۷۔
2…الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱/۱۷۱۔
3…الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱/۱۷۱، روایت نمبر: ۱۶۲۔
4…الفقیہ والمتفقہ، وجوب التفقّہ فی الدِّین علی کافۃ المسلمین، ۱/۱۷۱، روایت نمبر: ۱۶۳۔