برسوں تک تہجد کی نما زپڑھتا رہے، پابندی کے ساتھ پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرتا رہے اورساری ساری رات نوافل پڑھنے میںمصروف رہے، اس کی یہ تمام عبادات رائیگاں جائیں گی اور وہ ان کے ثواب سے محروم رہے گا۔
(3)…کاروباری، معاشرتی اور ازدواجی زندگی کے بہت سے معاملات ایسے ہیں جن کے لئے شریعت نے کچھ اصول اور قوانین مقرر کئے ہیں اور انہی اصولوں پر اُن معاملات کے حلال یا حرام ہونے کا مدار ہے اور جسے ان اصول و قوانین کی معلومات نہ ہو اور نہ ہی وہ کسی سے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرے تو حلال کی بجائے حرام میں مبتلا ہونے کا چانس زیادہ ہے اور حرام میں مبتلا ہونا خود کو اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کا حقدار ٹھہرانا ہے۔
سرِ دست یہ تین بنیادی اور بڑے نقصانات عرض کئے ہیں ورنہ شرعی معلومات نہ لینے کے نقصانات کی ایک طویل فہرست ہے جسے یہاں ذکر کرنا ممکن نہیں۔ دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہر مسلمان کو عقائد، عبادات ،معاملات اور زندگی کے ہر شعبے میں شرعی معلومات حاصل کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
فرض علوم سیکھنے کی ضرورت و اہمیت
یہاں میری ایک کتاب ’’علم اور علماء کی اہمیت‘‘ سے فرض علوم کی اہمیت و ضرورت پر ایک مضمون ملاحظہ ہو، چنانچہ اس میں ہے کہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ہر آدمی پر اپنی ضرورت کے مسائل سیکھنا ضروری ہے نمازی پر نماز کے ، روزہ رکھنے والے پر روزے کے ، زکوٰۃ دینے والے پرزکوٰۃ کے ،حاجی پر حج کے، تجارت کرنے والے پر خریدوفروخت کے، قسطوں پر کاروبار کرنے والے کے لئے اس کاروبار کے ، مزدوری پر کام کرنے والے کے لئے اجارے کے ، شرکت پر کام کرنے والے کے لئے شرکت کے ، مُضاربت کرنے والے پر مضاربت کے (مضاربت یہ ہوتی ہے کہ مال ایک کا ہے اور کام دوسرا کرے گا)، طلاق دینے والے پر طلاق کے، میت کے کفن ودفن کرنے والے پر کفن ودفن کے، مساجد ومدارس، یتیم خانوں اور دیگر ویلفیئرز کے مُتَوَلّیوں پر وقف اور چندہ کے مسائل سیکھنا فرض ہے ۔ یونہی پولیس، بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں اوردیگر محکموں کے ملازمین نیز جج اور کسی بھی ادارے کے افسر وناظمین پر رشوت کے مسائل سیکھنا فرض ہیں ۔ اسی طرح عقائد کے مسائل سیکھنا یونہی حسد ، بغض ، کینہ ، تکبر، ریاوغیرہا جملہ اُمور کے متعلق مسائل سیکھنا ہر اس شخص پر لازم ہے جس کا ان چیزوں سے تعلق ہوپھر ان میں فرائض ومُحَرّمات کا علم فرض اور واجبات