اعتراض ہے۔ (1)
اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مرد تھے، کوئی عورت نبی نہ ہوئی۔
{فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ:تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔} آیت کے اس حصے میں کفارِ مکہ سے فرمایا گیا کہ اگر تمہیں گزشتہ زمانوں میں تشریف لانے والے رسولوں کے احوال معلوم نہیں تو تم اہلِ کتاب کے ان علماء سے پوچھ لو جنہیں ان کے احوال کا علم ہے ،وہ تمہیں حقیقت ِ حال کی خبر دیں گے۔(2)
شرعی معلومات نہ ہونے اور نہ لینے کے نقصانات:
اس آیت میں نہ جاننے والے کو جاننے والے سے پوچھنے کا حکم دیا گیا کیونکہ ناواقف کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں کہ وہ واقف سے دریافت کرے اور جہالت کے مرض کا علاج بھی یہی ہے کہ عالم سے سوال کرے اور اس کے حکم پر عمل کرے اور جو اپنے اس مرض کا علاج نہیں کرتا وہ دنیا و آخرت میں بہت نقصان اٹھاتا ہے۔ یہاں اس کے چند نقصانات ملاحظہ ہوں
(1)… ایمان ایک ایسی اہم ترین چیز ہے جس پر بندے کی اُخروی نجات کا دارومدار ہے اور ایمان صحیح ہونے کے لئے عقائد کا درست ہونا ضروری ہے، لہٰذا صحیح اسلامی عقائد سے متعلق معلومات ہونا لازمی ہے۔ اب جسے اُن عقائد کی معلومات نہیں جن پر بندے کا ایمان درست ہونے کا مدار ہے تو وہ اپنے گمان میں یہ سمجھ رہا ہو گا کہ میرا ایمان صحیح ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے اور اگر حقیقت بر عکس ہوئی اور حالت ِکفر میں مر گیا تو آخرت میں ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا پڑے گا اور ا س کے انتہائی دردناک عذابات سہنے ہوں گے۔
(2)…فرض و واجب اور دیگر عبادات کو شرعی طریقے کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے،اس لئے ان کے شرعی طریقے کی معلومات ہونا بھی ضروری ہے۔ اب جسے عبادات کے شرعی طریقے اوراس سے متعلق دیگر ضروری چیزوں کی معلومات نہیں ہوتیں اور نہ وہ کسی عالم سے معلومات حاصل کرتا ہے تو مشقت اٹھانے کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جیسے نماز کے درست اور قابلِ قبول ہونے کے لئے ’’طہارت‘‘ ایک بنیادی شرط ہے اور جس کی طہارت درست نہ ہو تووہ اگرچہ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷، ۳/۲۷۲، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷، ۵/۴۵۵، تفسیر کبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷، ۸/۱۲۲، ملتقطاً۔
2…جلالین مع صاوی، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۷، ۴/۱۲۹۱۔