{مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَہُمۡ مِّنۡ قَرْیَۃٍ:ان سے پہلے جو بستی ایمان نہ لائی۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے کفار کی باتوں کا رد فرمایا اور انہیں جواب دیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کفارِ مکہ سے پہلے لوگوں نے بھی اپنے انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے نشانیوں کا مطالبہ کیا اور نشانیاں آنے کی صورت میں ایمان لانے کا عہد کیا اور جب ان کے پاس وہ مطلوبہ نشانیاں آئیں تو وہ ان انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان نہ لائے اوران کی تکذیب کرنے لگے اور اس سبب سے ان کفار کو ہلاک کر دیا گیا تو کیا یہ کفارِ مکہ نشانی دیکھ کر ایمان لے آئیں گے ؟حالانکہ اِن کی سرکشی اُن سے بڑھی ہوئی ہے۔(1)
وَمَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمْ فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جنہیں ہم وحی کرتے تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔
{وَمَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمْ:اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔} یہاں کفارِ مکہ کے سابقہ کلام کا رد کیا جا رہا ہے کہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بشری صورت میں ظہور فرمانا نبوت کے منافی نہیں کیونکہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے پہلے بھی ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے کسی قوم کی طرف فرشتے کو رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ سابقہ قوموں کے پاس بھی اللّٰہ تعالیٰ نے جو نبی اور رسول بھیجے وہ سب انسان اور مرد ہی تھے اور ان کی طرف اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتوں کے ذریعے احکامات وغیرہ کی وحی کی جاتی تھی اور جب اللّٰہ تعالیٰ کا دستور ہی یہ ہے تو پھر سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بشری صورت میں ظہور فرمانے پر کیا
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۶،ص۷۰۹۔