Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
276 - 695
اسے کھیلتے اور مذاق مَسخری کرتے ہوئے ہی سنتے ہیں اور آنے والے وقت کے لئے کچھ تیاری نہیں کرتے۔(1)
لَاہِیَۃً قُلُوۡبُہُمْ ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَی ٭ۖ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ٭ۖ ہَلْ ہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ۚ اَفَتَاْتُوۡنَ السِّحْرَ وَ اَنۡتُمْ تُبْصِرُوۡنَ ﴿۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مَشْوَرَت کی کہ یہ کون ہیں ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا کہ یہ (نبی) تمہارے جیسے ایک آدمی ہی تو ہیں تو کیا تم خود دیکھنے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو؟ 
{لَاہِیَۃً قُلُوۡبُہُمْ:ان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں ۔} دل کھیل میں پڑے ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہیں اور بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جو دل دنیا کے احوال میں مشغول اور آخرت کے احوال سے غافل ہو وہ کھیل میں پڑ اہوا ہے۔(2)
{وَ اَسَرُّوا النَّجْوَی ٭ۖ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا:اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا ۔} ارشاد فرمایا کہ کافروں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا اور اسے چھپانے میں بہت مبالغہ کیا مگر اللّٰہ تعالیٰ نے ان کا راز فاش کر دیا اور بیان فرما دیا کہ وہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں یوں کہتے ہیں کہ یہ تمہارے جیسے ایک آدمی ہی تو ہیں۔(3) یہ کفر کا ایک اصول تھا کہ جب یہ بات لوگوں کے ذہن نشین کر دی جائے گی کہ وہ تم جیسے بشر ہیں تو پھر کوئی ان پر ایمان نہ لائے گا۔ کفار یہ بات کہتے وقت جانتے تھے کہ ان کی بات کسی کے دل میں جمے گی نہیں کیونکہ لوگ رات دن معجزات دیکھتے ہیں، وہ کس طرح باور کر سکیں گے کہ حضورپُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہماری طرح بشر ہیں اس لئے انہوں نے معجزات
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲، ۵/۴۵۲، خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲، ۳/۲۷۱، ملتقطاً۔
2…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳، ۳/۲۷۱، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳، ۵/۴۵۲، ملتقطاً۔
3…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳، ۳/۲۷۱۔