Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
275 - 695
دی ہیں (اوراس میں یہ آیت ہے)’’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَہُمْ فِیۡ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوۡنَ‘‘لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔(1)
جب حساب کا وقت قریب ہے تو یہ دیوار نہیں بنے گی:
	ایک روایت میں ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں سے ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُدیوار بنا رہے تھے، جس دن یہ سورت نازل ہوئی ا س دن ان کے پاس سے ایک شخص گزرا تو انہوں نے اس سے پوچھا ’’ آج قرآن پاک میں کیا نازل ہوا ہے ؟اس نے بتایا کہ یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے ’’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَہُمْ فِیۡ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوۡنَ‘‘ لوگوں کا حساب قریب آگیااور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ ‘‘ان صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب یہ سناتواسی وقت دیوار بنانے سے ہاتھ جھاڑ لیے اور کہا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !جب حساب کاوقت قریب آگیا ہے تو پھر یہ دیوار نہیں بنے گی۔(2)
	 اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کی توفیق سے ہمارے دلوں میں بھی دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر پیدا ہوجائے اور ہم بھی اپنی اُخروی زندگی بہتر سے بہتر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہو جائیں۔
مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ ذِکْرٍ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوۡہُ وَہُمْ یَلْعَبُوۡنَ ۙ﴿۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: جب ان کے رب کے پاس سے انہیں کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے نہیں سنتے مگر کھیلتے ہوئے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: جب ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے ہی سنتے ہیں۔
{مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ ذِکْرٍ:جب ان کے پاس کوئی نصیحت آتی ہے۔} یعنی جب اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں نصیحت آمیز کوئی ایسی آیت نازل ہوتی ہے جو انہیں اعلیٰ طریقے سے اخروی حساب کی یاد دلائے اوراس سے غفلت کا شکار ہونے پر کامل طریقے سے تنبیہ کرے تو یہ اس میں غورو فکر کر کے عبرت ونصیحت حاصل کرنے اور اپنی غفلت دور کرنے کی بجائے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ابن عساکر، حرف العین، ذکر من اسمہ عامر، عامر بن ربیعۃ بن کعب بن مالک۔۔۔ الخ، ۲۵/۳۲۷۔
2…قرطبی، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۶/۱۴۵، الجزء الحادی عشر۔