کو جادو بتا دیا اور کہا کہ کیا تم خود دیکھنے اور جاننے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو؟
قٰلَ رَبِّیۡ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الۡاَرْضِ ۫ وَہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: نبی نے فرمایا میرا رب جانتا ہے آسمانوں اور زمین میں ہر بات کو اور وہی ہے سنتا جانتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: نبی نے فرمایا: میرا رب آسمان اور زمین میں ہر بات کوجانتا ہے اور وہی سننے والا جاننے والا ہے۔
{قٰلَ:نبی نے فرمایا۔} جب حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی طرف کفار کے اقوال اور احوال کی وحی کی گئی تو اس کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’کفار کی خفیہ باتوں کو جاننا تو کچھ بھی نہیں ، میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی شان تو یہ ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین میں ہونے والی ہر بات کوجانتا ہے خواہ وہ پوشیدہ طور پر کہی گئی ہو یا اعلانیہ کہی گئی ہو اوراس سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی خواہ وہ کتنے ہی پردے اور راز میں رکھی گئی ہو اور وہی سننے والا جاننے والا ہے، تو وہی کفار کے اَقوال اور اَفعال کی انہیں سزا دے گا۔(1)
بَلْ قَالُوۡۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىہُ بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ ۚۖ فَلْیَاۡتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَاۤ اُرْسِلَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴿۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: بلکہ بولے پریشان خوابیں ہیں بلکہ ان کی گڑھت ہے بلکہ یہ شاعر ہیں تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں جیسے اگلے بھیجے گئے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بلکہ(کافروں نے) کہا: جھوٹے خواب ہیں بلکہ خود اس (نبی) نے اپنی طرف سے بنالیا ہے بلکہ یہ شاعر ہیں (اگر نبی ہیں) تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں جیسے پہلے رسولوں کو بھیجا گیا تھا۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۴، ۵/۴۵۳۔