Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
274 - 695
	اور ارشادفرمائے کہ
’’اِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیۡدًا ۙ﴿۶﴾ وَّ نَرٰىہُ قَرِیۡبًا‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ اسے دور سمجھ رہے ہیں۔اور ہماسے قریب دیکھ رہے ہیں۔
 	اور ارشاد فرمائے کہ:
’’وَمَا یُدْرِیۡکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَکُوۡنُ قَرِیۡبًا‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔
	اس کے بعد تمہاری سب سے اچھی حالت تو یہ ہونی چاہئے کہ تم اس قرآنِ عظیم کے دئیے درس پر عمل کرو، لیکن اس کے برعکس تمہارا حا ل یہ ہے کہ تم اس قرآن کے معانی میں غوروفکر نہیں کرتے اور روزِ قیامت کے بے شمار اَوصاف اور ناموں کو (عبرت کی نگاہ سے) نہیں دیکھتے اور اس دن کی مصیبتوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ ہم اس غفلت سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں (اور دعا کرتے ہیں کہ) اللّٰہ تعالیٰ اپنی وسیع رحمت سے اس غفلت کو دور فرمائے۔(3) اور ہر مسلمان کو اس فانی دنیا سے بے رغبت ہو کر نیک اعمال کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ترغیب کے لئے یہاں دو حکایات ملاحظہ ہوں:
مجھے تمہاری جائیداد کی کوئی ضرورت نہیں:
	حضرت عامربن ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک عربی ان کے پاس آیا، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کانہایت اِکرام کیا اوراس کے متعلق حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کلام کیا۔ وہ شخص جب دوبارہ حضرت عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا تواس نے کہا کہ میں نے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایک وادی طلب کی ہے جس سے بہتر عرب میں کوئی وادی نہیں ہے ۔میں چاہتا ہوں کہ تمہارے لیے اس میں سے کچھ حصہ علیحدہ کردوں جوتمہارے اورتمہاری اولا دکے کام آئے۔ حضرت عامربن ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے کہا کہ’’ ہمیں تیری جائیداد کی کوئی ضرورت نہیں ،کیونکہ آج ایک سورت نازل ہوئی ہے اس نے ہمیں دنیا کی لذتیں بھلا 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…معارج۶،۷۔
2…احزاب:۶۳۔
3…احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الشطر الثانی من کتاب ذکر الموت فی احوال المیت۔۔۔ الخ، صفۃ یوم القیامۃ ودواہیہ واسامیہ، ۵/۲۷۶۔