کوئی پرواہ نہیں۔(1)
اُخروی حساب سے غفلت کے معاملے میں کفار کی روش اور مسلمانوں کا حال :
یہاں اگرچہ کفار کی روش کو بیان کیا گیا ہے لیکن افسوس !فی زمانہ مسلمانوں میں بھی قیامت کے دن اپنے اعمال کے حساب سے غفلت بہت عام ہو چکی ہے اور آج انہیں بھی جب نصیحت کی جاتی ہے اورموت کی تکلیف، قبر کی تنگی، قیامت کی ہولناکی، حساب کی سختی اور جہنم کے دردناک عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو یہ عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی بجائے منہ پھیر کر گزر جاتے ہیں، حالانکہ مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ ایسا طرزِ عمل اختیار کرے جو کافروں اور مشرکوں کا شیوہ ہو۔
امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اے انسان! تجھے اپنے کریم رب عَزَّوَجَلَّکے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے کہ تو دروازے بند کرکے،پردے لٹکاکر اور لوگوں سے چھپ کر فسق و فجور اور گناہوں میں مبتلا ہوگیا! (تو لوگوں کے خبردار ہونے سے ڈرتا ہے حالانکہ تجھے پیدا کرنے والے سے تیرا کوئی حال چھپا ہوا نہیں، ) جب تیرے اَعضا تیرے خلاف گواہی دیں گے (اور جو کچھ تو لوگوں سے چھپ کر کرتا رہا وہ سب ظاہر کر دیں گے) تو اس وقت تو کیا کرے گا۔ اے غافلوں کی جماعت ! تمہارے لئے مکمل خرابی ہے، اللّٰہ تعالیٰ تمہارے پاس سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو بھیجے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر روشن کتاب نازل فرمائے (جس میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے)اور تمہیں قیامت کے اوصاف کی خبر دے، پھر تمہاری غفلت سے بھی تمہیں آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمائے کہ
’’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَہُمْ فِیۡ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوۡنَ ۚ﴿۱﴾ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ ذِکْرٍ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوۡہُ وَہُمْ یَلْعَبُوۡنَ ۙ﴿۲﴾ لَاہِیَۃً قُلُوۡبُہُمْ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: لوگوں کا حساب قریب آگیااور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ جب ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے ہی سنتے ہیں۔ ان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں۔
پھر وہ ہمیں قیامت قریب ہونے کے بارے میں بتاتے ہوئے ارشادفرمائے کہ
’’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الْقَمَرُ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۳/۲۷۰-۲۷۱، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ص۷۰۹، تفسیر طبری، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۹/۳، ملتقطاً۔
2…انبیاء:۱-۳۔ 3…قمر:۱۔