Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
272 - 695
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَہُمْ فِیۡ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوۡنَ ۚ﴿۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: لوگوں کا حساب نزدیک اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ 
{اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ:لوگوں کا حساب قریب آگیا۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو نہیں مانتے تھے۔دوسرا قول یہ ہے کہ اِس آیت میں اگرچہ اُس وقت کفارِ قریش کی طرف اشارہ کیا گیاہے لیکن لفظ’’اَلنَّاسِ‘‘ میں عموم ہے (اور اس سے تمام لوگ مراد ہیں۔)نیزیہاں قیامت کے دن کو گزرے ہوئے زمانہ کے اعتبار سے قریب فرمایا گیاکیونکہ جتنے دن گزرتے جاتے ہیں آنے والا دن قریب ہوتا جاتا ہے ۔
	اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں نے دنیا میں جو بھی عمل کئے ہیں اور ان کے بدنوں، ان کے جسموں، ان کے کھانے پینے کی چیزوں اور ان کے ملبوسات میں اور ان کی دیگر ضروریات پوری کرنے کے لئے اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں جو بھی نعمتیں عطا کی ہیں، ان کے حساب کا وقت(روزِقیامت) قریب آ گیا ہے اوراس وقت ان سے پوچھا جائے گا کہ ان نعمتوں کے بدلے میں انہوں نے کیا عمل کئے،آیا انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور ا س کے دئیے ہوئے حکم پر عمل کیا اور جس چیز سے اس نے منع کیا اس سے رک گئے یا انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی ،اس سنگین صورتِ حال کے باوجود لوگوں کی غفلت کا حال یہ ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کئے جانے سے اور قیامت کے دن پیش آنے والی عظیم مصیبتوں اور شدید ہولناکیوں سے بے فکر ہیں اور اس کے لئے تیاری کرنے سے منہ پھیرے ہوئے ہیں اورانہیں اپنے انجام کی