کر مطمئن کریں اور یہ بیان کردیں کہ دنیا میں عذاب یافتہ امتیں آخرت میں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف ضرور لوٹیں گی اور جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گی۔
(8) …قیامت قائم ہونے کی ایک علامت بیان کی گئی کہ وہ دیوار ٹوٹ جائے گی جس نے یاجوج اور ماجوج کوروک کر رکھا ہوا ہے۔
(9) …قیامت کے دن کی ہولناکیاں اور وہ شدید عذاب بیان کیا گیا جس کا سامنا کفار کریں گے اور یہ ذکر کیا گیا کہ کفار اور ان کے باطل معبود جہنم کا ایندھن بنیں گے،اس زمین کو دوسری زمین سے بدل دیا جائے گا،آسمانوں کو لپیٹ دیا جائے گا ، نیک لوگ ابدی نعمتوں سے اپنا حصہ پائیں گے اور جنت میں اپنی اپنی زمین کے وارث ہوں گے۔
(10) …اس سورت کے آخر میں بیان کیا گیا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سب جہانوں کے لئے رحمت بن کر آئے ہیں اور ان کی طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ معبود صرف اللّٰہ تعالیٰ ہے اورا س کا کوئی شریک نہیں ،وہ اللّٰہ تعالیٰ کے احکام بجا لائیں اور لوگوں کو قریب آنے والے عذاب اور حتمی طور پر واقع ہونے والی قیامت سے ڈرائیں اور یہ بتا دیں کہ انہیں مہلت ملنا اور عذاب میں تاخیر ہونا ایک امتحان ہے۔اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے دشمنوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا اورکفار کی تہمتوں اور بہتانوں کے مقابلے میں اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا مددگار ہے۔
سورۂ طٰہٰ کے ساتھ مناسبت:
سورۂ انبیاء کی اپنے سے ماقبل سورت’’طٰہٰ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ طٰہٰ کے آخر میں قیامت کے آنے سے خبردار کیا گیا تھا اور سورۂ انبیاء کی ابتداء میں بھی قیامت کے آنے سے خبردار کیا گیاہے۔ اسی طرح سورۂ طٰہٰ میں یہ بیان کیا گیا تھاکہ دنیا کی زیب و زینت اور آرائش کی طرف نظر نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہ سب زائل ہونے والی ہیں اور سورۂ انبیاء میں بیان کیا گیا کہ لوگوںکا حساب قریب ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا کی فانی نعمتوں میں دل لگانے کی بجائے ان چیزوں کی تیاری کی طرف توجہ دینی چاہئے جن کا ہم سے حساب لیا جانا ہے۔