سے دھوکہ کھائے بیٹھے ہیں۔
(2) …مکہ کے مشرکین کی طرف سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کا انکار کرنے کا سبب بیان کیا گیا کہ وہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھی اپنی طرح کا عام بشر سمجھتے ہیں اس لئے وہ لوگ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان نہیں لاتے ،نیز ان کے اس نظریے کا رد کیا گیا کہ انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کوئی وحی وغیرہ نہ اترتی تھی بلکہ وہ صرف عام بشر تھے جو کھاتے پیتے اور بازاروں میں چلتے تھے،پھر انہیں بتایاگیا کہ سابقہ امتیں اپنے اَنبیاء اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو جھٹلانے کی وجہ سے تباہ و برباد کر دیں گئیں تو کفارِ مکہ کو بھی ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان کی طرح انہیں بھی ہلاک نہ کر دیاجائے۔
(3) …کفار ِمکہ نے مطالبہ کیا کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سابقہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرح اپنی صداقت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی لائیں تو اللّٰہ تعالیٰ نے ان کا رد کیا اور بیان فرمایا کہ ان انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات عارضی تھے اور میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قرآن کی صورت میں جو معجزہ لے کر آئے ہیں یہ تا قیامت باقی رہنے والا اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصال کے بعد بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کی دلیل ہے تو کیا ان کی صداقت کے لئے کفار کو یہ معجزہ کافی نہیں۔
(4) …کفار فرشتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے ،ان کے ا س عقیدے کا رد کیا گیاکہ فرشتے تو اللّٰہ تعالیٰ کی فرمانبردار اور عبادت گزار مخلوق ہے۔
(5) …اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور معبود ہونے پر مختلف دلائل ذکر فرمائے جیسے زمین و آسمان کی پیدائش،دن اور رات کے سلسلے کو قائم کرنا اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت و وحدانیت کی دلیل ہے ،اسی طرح وحدانیت پر یہ دلیل قائم فرمائی کہ اگر اللّٰہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا ہوتا تو کائنات کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔
(6) …انہی آیات کے ضمن میں حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت نوح، حضرت داؤد، حضرت سلیمان،حضرت ایوب، حضرت اسماعیل،حضرت ادریس،حضرت ذوالکفل، حضرت یونس، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان فرمائے گئے۔
(7) …ان واقعات کو بیان کرنے کے بعد فرمایا گیا کہ سب انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہی ایک مقصد تھا کہ وہ مخلوق کو اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیں۔ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کو اچھی جزاء کی بشارت سنا