پارہ نمبر…17
سورۂ انبیاء
سورۂ انبیاء کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔(1)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
اس میں 7رکوع ،112آیتیں ،1168کلمے اور 4890حروف ہیں۔(2)
’’انبیاء ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اس سورت میں بکثرت انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کاذکرہے مثلاً حضرت موسیٰ،حضرت عیسیٰ ،حضرت ہارون ، حضرت لوط، حضرت ابراہیم عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور بالخصوص سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ذکر ہے، اسی وجہ سے اس سورت کانام ’’سُوْرَۃُ الْاَنْبِیَاء‘‘ ہے۔
سورۂ اَنبیاء کے مَضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اسلام کے بنیادی عقائد جیسے توحید،نبوت و رسالت،قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء و سزا ملنے کو دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور ا س سورت میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں:
(1) …اس کی ابتداء میں قیامت کا وقوع اور لوگوں کا حساب قریب ہونے اور لوگوں کے حساب کی سختیوں اور دیگر چیزوں سے غافل ہونے کا ذکر کیا گیا اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ لوگ قرآن سننے سے اِعراض کرتے ہیں اور دُنْیَوی زندگی کی لذتوں
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، تفسیر سورۃ الانبیاء۔۔۔ الخ، ۳/۲۷۰۔
2…خازن، تفسیر سورۃ الانبیاء۔۔۔ الخ، ۳/۲۷۰۔