Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
265 - 695
ان کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوسکیں اوراس خالق ومالک کویاد کرسکیں جوحقیقی روزی دینے والاہے ،اور اتنی محنت و کوشش کے باوجود ان کا جو معاشی حال ہے وہ سب کے سامنے ہے کہ آج ہر کوئی رزق کی کمی، مہنگائی، بیماری اور پوری نہیں پڑتی کا رونا رو رہا ہے۔ اے کاش! مسلمان رزق حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اس ذمہ داری کو بھی پورا کرتے جو اللّٰہ تعالیٰ نے ان پر لازم کی ہے تو آج ان کا حال اس سے بہت مختلف ہوتا۔ عبرت کے لئے یہاں 3اَحادیث ملاحظہ فرمائیں
(1)…حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدار رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جسے آخر ت کی فکر ہواللّٰہ تعالیٰ اس کا دل غنی کر دیتا ہے اور اس کے بکھرے ہوئے کاموں کو جمع کر دیتا ہے اور دنیاا س کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے  اور جسے دنیا کی فکر ہو،اللّٰہ تعالیٰ محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے اور اس کے جمع شدہ کاموں کو مُنْتَشر کر دیتا ہے اور دنیا (کامال ) بھی اسے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لئے مقدر ہے۔(1)
(2)…حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’جو شخص تمام فکروں کو چھوڑ کر ایک چیز(یعنی) آخرت کی فکر سے تعلق رکھے گا، اللّٰہ تعالیٰ اس کے تمام دُنْیَوی کام اپنے ذمے لے لے گااور جو دنیوی فکروں میں مبتلا رہے گاتو اللّٰہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں ،خواہ وہ کہیں بھی مرے۔(2)
(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا:اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اے انسان! تو میری عبادت کے لئے فارغ ہو جا ،میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گااور تیری محتاجی کا دروازہ بند کر دوں گااور اگر تو ایسا نہ کرے گا تو تیرے دونوں ہاتھ مَشاغل سے بھر دوں گااور تیری محتاجی کا دروازہ بند نہ کروں گا۔(3)
روزی کے دروازے کھلنے کا ذریعہ:
	اس آیت سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیک اعمال سے روزی کے دروازے کھلتے ہیں۔ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:
’’ وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿۲﴾ وَّ یَرْزُقْہُ
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو اللّٰہ سے ڈرے اللّٰہ اس کے لیے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۳۰-باب، ۴/۲۱۱، الحدیث: ۲۴۷۳۔
2…ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الہمّ بالدنیا، ۴/۴۲۵، الحدیث: ۴۱۰۶۔
3…ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۳۰-باب، ۴/۲۱۱، الحدیث: ۲۴۷۴۔