مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ‘‘(1)
نکلنے کا راستہ بنادے گا۔ اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان (بھی)نہ ہو۔
وَقَالُوۡا لَوْلَا یَاۡتِیۡنَا بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ اَوَلَمْ تَاۡتِہِمۡ بَیِّنَۃُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوۡلٰی ﴿۱۳۳﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور کافر بولے یہ اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے اور کیا انھیں اس کا بیان نہ آیا جو اگلے صحیفوں میں ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافر وں نے کہا: یہ نبی اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ؟ اور کیا ان لوگوں کے پاس پہلی کتابوں میں مذکور بیان نہ آیا۔
{وَقَالُوۡا:اور کافر وں نے کہا۔} کثیر نشانیاں آ جانے اور معجزات کا مُتَواتِر ظہور ہو نے کے باوجودکفار ان سب سے اندھے بنے اور انہوں نے حضورپُرنورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نسبت یہ کہہ دیا کہ آپ اپنے ربّ کے پاس سے کوئی ایسی نشانی کیوں نہیں لاتے جو آپ کی نبوت صحیح ہونے پر دلالت کرے ، اس کے جواب میں اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’ کیا ان لوگوں کے پاس پہلی کتابوں میں مذکور قرآن اور دو عالَم کے سردارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بشارت اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت و بِعثت کا ذکر نہ آیا، یہ کیسی عظیم ترین نشانیاں ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے اور کسی نشانی کو طلب کرنے کا کیا موقع ہے۔(2)
وَلَوْ اَنَّـاۤ اَہۡلَکْنٰہُمۡ بِعَذَابٍ مِّنۡ قَبْلِہٖ لَقَالُوۡا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنۡ قَبْلِ اَنۡ نَّذِلَّ وَنَخْزٰی ﴿۱۳۴﴾ قُلْ کُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…سورۂ طلاق:۲،۳۔
2…ابو سعود، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۳، ۳/۵۰۰۔