Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
264 - 695
نہیں۔خود کی نمازیں ضائع ہو جائیں ،انہیں اس کی فکر نہیں اورکوئی شخص نماز چھوڑنے پرانہیں اُخروی حساب اور عذاب سے ڈرائے ،انہیں اس کا احساس نہیں۔اللّٰہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے اورنہ صرف خود نمازیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی نمازی بنانے کی ہمت و توفیق نصیب کرے،اٰمین۔
{لَا نَسْـَٔلُکَ رِزْقًا: ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے۔} ارشاد فرمایا کہ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے اور اس بات کا پابند نہیں کرتے کہ ہماری مخلوق کو روزی دے یا اپنے نفس اور اپنے اہل کی روزی کے ذمہ دار ہو بلکہ ہم تجھے روزی دیں گے اور انہیں بھی ، تو روزی کے غم میں نہ پڑ ،بلکہ اپنے دل کو امر ِآخرت کے لئے فارغ رکھ کہ جو اللّٰہ تعالیٰ کے کام میں ہوتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اس کی کارسازی کرتا ہے اور آخرت کا اچھاانجام پرہیزگاری اختیار کرنے والوں کے لیے ہے۔(1)
ٓٓاللّٰہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑنے کا انجام:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرے کسی کو روزی دینا اس کے ذمے نہیں بلکہ سب کو روزی دینے والی ذات اللّٰہ تعالیٰ کی ہے ۔
اسی طرح ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :
’’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾ مَاۤ اُرِیۡدُ مِنْہُمۡ مِّنۡ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیۡدُ اَنۡ یُّطْعِمُوۡنِ ﴿۵۷﴾ اِنَّ اللہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیۡنُ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں۔میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا اور نہ  یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔بیشک اللّٰہ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا، قدرت والا ہے۔
	یاد رہے کہ ان آیتوں کا مَنشاء یہ نہیں کہ انسان کمانا چھوڑ دے،کیونکہ کمائی کرنے کا حکم قرآن و حدیث میں بہت جگہ آیا ہے،بلکہ منشاء یہ ہے کہ بندہ کمائی کی فکر میں آخرت سے غافل نہ ہو اوردنیاکمانے میں اتنامگن نہ ہوجائے کہ حلال وحرام کی تمیزنہ کرے اور نماز،روزے ،حج ،زکوٰۃ سے غافل ہوجائے ۔
	افسوس! فی زمانہ مسلمان مال کمانے میں اس قدر مگن ہو چکے ہیں کہ صبح شام ،دن رات اسی میں سرگرداں ہیں اور 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۲، ص۷۰۷-۷۰۸۔
2…الذاریات:۵۶۔۵۸۔