Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
263 - 695
روزی دیں گے اور انجام کا بھلا پرہیزگاری کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی نماز پر ڈٹے رہو۔ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے (بلکہ) ہم تجھے روزی دیں گے اور اچھاانجام پرہیزگاری کے لیے ہے۔
{وَاۡمُرْ اَہۡلَکَ بِالصَّلٰوۃِ:اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو۔}  ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس طرح ہم نے آپ کو نماز ادا کرنے کا حکم دیا اسی طرح آپ بھی اپنے گھر والوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیں اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہیں۔(1)
	حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں’’ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تونبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آٹھ ماہ تک حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے دروازے پرصبح کی نمازکے وقت تشریف لاتے رہے اور فرماتے ’’اَلصَّلَاۃُ رَحِمَکُمُ اللّٰہُ، اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا‘‘(2)
نماز اور مسلمانوں کا حال:
	یاد رہے کہ اس خطاب میں حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت بھی داخل ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہر امتی کو بھی یہ حکم ہے کہ وہ اپنے گھروالوں کو نماز ادا کرنے کا حکم دے اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہے ۔
ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَ اَہۡلِیۡکُمْ نَارًا وَّ قُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ عَلَیۡہَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوۡنَ اللہَ مَاۤ اَمَرَہُمْ وَ یَفْعَلُوۡنَ مَا یُؤْمَرُوۡنَ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اس  پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللّٰہ کے حکم کی نافرمانینہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
	افسوس! فی زمانہ نماز کے معاملے میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ گھر والے نمازیں چھوڑدیں ، انہیں ا س کی پرواہ 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۲، ۵/۴۴۸۔
2…ابن عساکر، حرف الطاء فی آباء من اسمہ علی، علی بن ابی طالب۔۔۔ الخ، ۴۲/۱۳۶۔
3…التحریم:۶۔