کفار کی ترقی ان کے لئے آزمائش ہے:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ کافروں کے دُنْیَوی سازو سامان،مال و دولت اور عیش و عشرت کافروں کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہیں اس لئے مومن کو چاہئے کہ وہ کفار کی ان چیزوں کو تعجب اور اچھائی کی نظر سے نہ دیکھے۔ حضرت حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نافرمانوں کی شان و شوکت اور رعب داب نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ گناہ اور معصیت کی ذلت کس طرح ان کی گردنوں سے نمودار ہے۔(1)
اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت ہے جو فی زمانہ کفار کی دنیوی ٹیکنالوجی میں ترقی، مال و دولت اور عیش عشرت کی فراوانی دیکھ کرتو ان سے انتہائی مرعوب اور دین ِاسلام سے ناراض دکھائی دیتے ہیں جبکہ انہیں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ اس ترقی اور دولت مندی کی وجہ سے وہ اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور ا س کے احکام سے سرکشی کرنے میں کتنا آگے بڑھ چکے ہیں، کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اسی ترقی کے سبب آج کونسا گناہ ایسا ہے جو وہ نہیں کر رہے …؟ فحاشی ، عُریانی ، بے حیائی اور بے شرمی کی کونسی ایسی حد ہے جو وہ پار نہیں کر چکے…؟ ظلم و ستم ، سفاکی اور بے رحمی کی کونسی ایسی لکیر ہے جسے وہ مٹا نہیں چکے…؟ مسلمانوں کو ذلت و رسوائی میں ڈبونے کے لئے کون سا ایسا دریا ہے جس کے بند وہ توڑ نہیں چکے…؟ افسوس! ان سب چیزوں کو اپنی جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھنے ،سماعت سے بھر پور کانوں سے سننے کے باوجود بھی لوگ عبرت نہیں پکڑتے اور کفار کے عیش و عشرت اور ترقی و دولت کی داستانیں سن سنا کر اور مسلمانوں کی ذلت و غربت کا رونا رو کر نہ صرف خود اسلام سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں بلکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی دین ِاسلام سے دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے۔
وَاۡمُرْ اَہۡلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیۡہَا ؕ لَا نَسْـَٔلُکَ رِزْقًا ؕ نَحْنُ نَرْزُقُکَ ؕ وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰی ﴿۱۳۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے ہم تجھے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱،ص۷۰۷۔